غزہ میں اسرائیلی فوج نے کئے تابڑ توڑ فضائی حملے، 12 بچوں سمیت 43 فلسطینیوں کی موت

n658747206174367248001453b4207e668c2566667938c0c148775ad9f1ce8fb1ae37a4cf4eecad1e995e61

اسرائیل غزہ کی ہٹی میں "بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کی کوشش میں اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک درجن کے قریب بچوں سمیت کم از کم 43 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل ‘عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور "فلسطینی سرزمین کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے انہیں اسرائیل کے سکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی مہم کی توسیع کر رہی ہے ۔ اسرائیلی حکومت نے طویل عرصے سے غزہ میں ایک ‘بفر زون’ کو فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ‘بفر زون’ اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جو پہلے سے چھوٹے ساحلی علاقے (غزہ کی پٹی) کو مزید سکڑ دے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریبا 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے "حماس کو نکال باہر کرنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے” کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا خیال ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔ دریں اثنا، انڈونیشیا کے ہسپتال کے حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA) سے تعلق رکھنے والی عمارت پر حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ عمارت کو بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جس میں 700 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں اقوام متحدہ کا کوئی عملہ زخمی نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا ناصر ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں پانچ خواتین اور دو بچوں سمیت 28 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والی خواتین میں سے ایک حاملہ تھی۔