وقف ترمیمی قانون کے خلاف شہر میں زبردست احتجاج ‘ ہزاروں افراد کی شرکت

c2-1-407x271

کہ کانگریس وقف ترمیمی قوانین کی سختی سے مخالفت کررہی ہے اور اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت ان قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کی جائیدادوں کو چھین لینے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا شمالی ہند کی ریاستوں میںآغاز بھی کیا جاچکا ہے لیکن جن ریاستوں میں کانگریس کو اقتدار ہے ان میں اس قانون کو روکنے اقدامات کئے جائیں گے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کے دستور سے چھیڑ چھاڑ کا جو منصوبہ تیار کئے ہوئے ہے اسی پر عمل کی یہ ایک کڑی ہے اسی لئے وقف قوانین کے نفاذ پر محض مسلمانوں کو نہیں بلکہ دیگر تمام طبقات کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مسئلہ صرف وقف قانون کا نہیں بلکہ وقف ترمیم کے ذریعہ حکومت نے دستور میں ترمیم کی راہ ہموار کی ہے اور دستور میں دیئے گئے اختیارات کو چھیننے کی کوشش کی ہے۔ مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کسی فرد ‘ جماعت یا تنظیم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ شرعی مسئلہ ہے اس پر اختلافات کے بجائے اتحاد کا ثبوت دینے اور سب کو متحدہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان میں مسلمانو ںکے عرصہ حیات کو تنگ کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے اور اس طرح کے قوانین کے ذریعہ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی جو کوشش کی جار ہی ہے ان کوششوں کو ناکام بنانے امت مسلمہ کو جدوجہد کرنی چاہئے ۔ مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی نے پر امن جدوجہدکو آگے لیجانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان احتجاجی مظاہروں ‘ جلسوں اور ریالیوں میں شامل ہونے والوں کو چاہئے کہ وہ دیگر ابنائے وطن کو بھی حقائق سے واقف کروائیں اور انہیں مرکزی حکومت کے مرممہ قانون کے ذریعہ دستور کو نقصان کے متعلق بتائیں۔ آج کے احتجاج کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ برقعہ پوش خواتین نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ احتجاجی مظاہرہ میں مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی و اقلیتی طبقات جناب محمد علی شبیر‘ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی ‘ صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مولانا سید غلام افضل خسرو بیابانی ‘ صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جناب عبیداللہ کوتوال‘ نائب صدر ٹمریز جناب فہیم قریشی ‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری ‘ محترمہ وجیہ ریڈی انچارج خیریت آباد‘ جناب شیخ اکبر ‘ جناب علی بن ابراہیم بن عبداللہ مسقطی و دیگر کانگریس قائدین کے علاوہ ملی و مذہبی شخصیات موجود تھیں۔