جوبلی ہلز حلقہ ۔ ایک انار ۔ 100بیمار

جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا ٹکٹ حاصل کرنے سیاست ابھی سے گرمانے لگی ہے اور اس نشست سے مقابلہ کیلئے دعویدار کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں جبکہ کانگریس ہائی کمان نے اس پر تاحال کوئی رپورٹ طلب نہیں کی اور نہ اس کا جائزہ لیا ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی کے متوفی رکن اسمبلی ماگنٹی گوپی ناتھ کے رشتہ دار کو ہی اپنے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا ذہن بناچکی ہے لیکن کانگریس میں حلقہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں ٹکٹ کے دعویداروں کی فہرست طویل ہونے کا امکان ہے ۔سابق کرکٹ کپتان و کانگریس قائد جناب محمد اظہر الدین جو کہ 2023 اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے شکست کھا چکے ہیں انہوں نے دوبارہ ٹکٹ کیلئے دعویداری پیش کرکے یہ اعلان کردیا کہ وہ دوبارہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے مقابلہ کرنے والے ہیں جبکہ پارٹی میں دیگر کئی دعویدار اس نشست سے ٹکٹ کے خواہاں ہیں اور وہ کوشش کرنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق جوبلی ہلز حلقہ کے ضمنی انتخابات میں اقلیتی قائد کے بجائے غیر اقلیتی قائد کو امیدوار بنانے کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ حکومت سے گچی باؤلی فلائی اوور کو ’پی جے آر‘ کے نام سے معنون کئے جانے پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کانگریس ‘پی جے آر کے فرزند وشنووردھن ریڈی کو امیدوار بناسکتی ہے کیونکہ وہ سابق میں اس حلقہ اسمبلی سے نمائندگی کرچکے ہیں اور گذشتہ انتخابات میں جوبلی ہلز حلقہ سے محمد اظہر الدین کو ٹکٹ دیئے جانے پر ناراض ہوکر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔وشنو وردھن ریڈی کے علاوہ پارٹی ذرائع کے مطابق نوین یادو بھی جوبلی ہلز حلقہ سے ٹکٹ حاصل کرنے کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں جبکہ اس حلقہ سے مقابلہ کیلئے ایک سے زائد اقلیتی قائدین زور آزمائی کر رہے ہیں ۔ان قیاس آرائیوں کے درمیان محمد اظہر الدین کی جانب سے جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی سے مقابلہ کے اعلان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس حلقہ اسمبلی کو کسی اور کیلئے قربان کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ متوفی رکن اسمبلی کے انتخاب پر عدالت سے رجوع ہوچکے تھے.
