یوم عاشور کے موقع پر حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایران کے سپریم لیڈر کے پوسٹرس

1-23-390x220

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدہ حالات کے درمیان حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور حزب اللہ کے مرحوم لیڈر حسن نصراللہ کی تصاویر والے فلکسی پوسٹرس لگائے گئے۔یوم عاشور کے موقع پرپرانے شہر کے بعض علاقوں میں ایران کی تائیدمیں یہ پوسٹرس لگائے گئے۔ایران کے سپریم لیڈر کی تصاویر لگانا بعض افراد کی نظر میں محض سیاسی عمل نہیں بلکہ عالم اسلام کے مظلوم طبقوں سے یکجہتی کا ایک علامتی اظہار بھی ہے، خاص طور پر محرم کے موقع پر جہاں کربلا کے پیغام میں ظلم کے خلاف مزاحمت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو دینی و فکری رہنما کے طور پر ماننے والے افراد محرم کے موقع پر اُن کی تصاویر کو روحانی وابستگی کا اظہار سمجھتے ہیں۔ یہ اقدام ایک پُرامن عقیدہ اور وابستگی کی علامت ہے۔ ان پوسٹروں کے ذریعہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں، بالخصوص فلسطین، لبنان، یمن وغیرہ کے عوام سے ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ یہ تصاویر عوام میں سیاسی و سماجی بیداری پیدا کرنے کی بھی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، تاکہ نوجوان نسل بین الاقوامی حالات، استعمار کے خلاف جدوجہد اور امت مسلمہ کے مسائل سے واقف ہو۔ حیدرآباد ہمیشہ سے مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تہذیبی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ ان پوسٹروں کی موجودگی اسی تاریخی شناخت کی ایک جھلک ہے جہاں مختلف نظریات رکھنے والے افراد آزادی کے ساتھ اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کے پوسٹرس لگانے کا عمل ایک مخصوص عقیدہ، سیاسی اور عالمی تناظرکی علامت ہے، جو محض مقامی صورتحال نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی جذبات، اتحاد اور شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس پورے ماحول میں حیدرآباد کی پرانی تہذیبی شناخت، مذہبی آزادی اور امن پسند روایتیں نمایاں نظر آتی ہیں۔