عاشور خانہ بڑا شاہی معاملہ کی وقف بورڈ سے تحقیقات کا آغاز

haj-huse

تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے عاشور خانہ بڑا شاہی معاملہ میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے لیکن اس تحقیقات کے دوران مزید کئی جائیدادوں پر این اوسی جاری کئے جانے کے انکشافات ہونے لگے ہیں لیکن وقف بورڈ ان معاملات کی باضابطہ تحقیقات کے آغاز سے گریز کر رہا ہے جبکہ وقف بورڈ میں موجود نام نہاد دیانتدار اعلیٰ عہدیدار کو تو چاہئے کہ وہ فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی جائیدادوں کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے لئے تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے کم از کم عملہ کے ان افراد کے خلاف ویجلنس کے ذریعہ تحقیقات کا آغاز کروائے جن کے نام ان این او سی کی اجرائی کے معاملہ میں منظر عام پر آئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق وقف بورڈ نے سابق سی ای او کو جن کی دستخط سے این او سی جاری کی گئی تھی انہیں طلب کرتے ہوئے باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کے بجائے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور سابق سی ای او نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے تعاون کا تیقن دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقف بورڈ کے ذریعہ این او سی کی اجرائی کی سنگین جرم ہے اور اس جرم کے خلاف وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے معاملہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج کروائے ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ کھمم کی اراضی کے معاملہ میں جاری کی گئی این او سی کے علاوہ کتنی این اوسی جاری کی گئی ہیں اس کی تفصیلات منظر عام پر لائیں کیونکہ اس مدت میں جب یہ این اوسی جاری کی گئی تھی اسی دوران مزید کئی جائیدادوں کی این او سی جاری کرنے کے علاوہ مقدمات میں جان بوجھ کر موقوفہ جائیدادوں کے مقدمات میں شکست کے الزامات بھی عائد ہوچکے ہیں۔ ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق این او سی کی اجرائی کے معاملہ میں ملوث بورڈ کے اہلکاروں کو بچانے اور ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہ ہواس بات کو یقینی بنانے کے لئے عہدیدار سرگرم ہے جبکہ این اوسی کی اجرائی کے معاملہ میں ملوث عملہ کے افراد کے اثاثہ جات کی اگر تحقیقات کی جاتی ہیں اور انسداد رشوت ستانی محکمہ میں باضابطہ شکایت درج کرواتے ہوئے ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات کے متعلق آگہی حاصل کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بورڈ میں جاری دھاندلیوں کا انکشاف ہوگا بصورت دیگر بورڈ کی چال بے ڈھنگی کا معاملہ یوں ہی جاری رہے گا.