بہار میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے اثرات ‘ شہر کے عوام میں بھی بے چینی

بہار اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تنقیح اور فہرست رائے دہندگان سے ناموں کو حذف کرنے کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد کے عوام میں بھی تشویش پائی جانے لگی ہے اور وہ اپنے ووٹر شناختی کارڈس میں موجود غلطیوں کو درست کروانے بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے مکین اپنے صداقتنامہ پیدائش اور اپنے مرحومین کے صدقتنامہ اموات کو بھی درست کروانے لگے ہیں کیونکہ بہار انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی کارروائی سے متعلق خبریں ملک کے بیشتر علاقوں کے عوام میں تشویش کی لہر پیدا کرچکی ہے۔ اپنے ووٹر شناختی کارڈس میں تصحیح کروانے والوں سے دریافت کرنے پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عین انتخابات سے قبل کسی بھی طرح کی غلطیوں کو درست کروانے کی کوشش میں تکالیف سے محفوظ رہنے وہ اس عمل کو جلد مکمل کروانے کی کوشش میں ہیں۔ علاوہ ازیں بعض شہریوں میں یہ احساس پایا جا رہاہے کہ حکومت ہند الیکشن کمیشن کے ذریعہ بالواسطہ این آر سی کا آغاز کرچکی ہے اور شہریوں کے حقوق کو سلب کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں اسی لئے وہ دستاویزات کو درست کروا رہے ہیں۔می سیوا کے نگران اور ملازم کا کہناہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اچانک دستاویزات کی درستگی کیلئے داخل کی جانے والی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور جن لوگوں کے آدھار کارڈ میں غلطیاں ہیں وہ بھی آدھار کارڈ کی غلطیوں کو درست کروانے کیلئے درخواستیں داخل کرنے لگے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے بہار میں ووٹر لسٹ میں موجود خامیوں کو دور کرنے اقدامات کے دوران جو دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں ان دستاویزات کو اکٹھا کرنے میں بھی کئی لوگ مصروف ہوچکے ہیں اور ان میں یہ خوف پیدا ہونے لگا ہے کہ جب کبھی تلنگانہ میں انتخابات ہوں گے اس سے قبل فہرست رائے دہندگان کی تنقیح و درستگی کے نام پر ایسی کارروائی تلنگانہ میں بھی ممکن ہے اسی لئے درکار دستاویزات تیار رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ شہریوں میں ان اندیشوں کو دور کرنے ان میں فوری شعور بیداری مہم کا آغاز ضروری ہے تاکہ عوام کو خوفزدہ ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے
