بی سی تحفظات کے آرڈیننس پر گورنر جشنودیو ورما کا عنقریب فیصلہ

20last

گورنر جشنودیو ورما نے بی سی تحفظات سے متعلق آرڈیننس پر قانونی رائے طلب کرلی ہے اور توقع ہے کہ اندرون دو یوم آرڈیننس کے مسئلہ پر گورنر کوئی فیصلہ کریں گے۔ تلنگانہ پنچایت راج ایکٹ 2018 کی دفعہ 285A میں ترمیم کرتے ہوئے حکومت نے مجالس مقامی میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو تحفظات کے تعین کے لئے جولائی تک کی مہلت دی گئی جبکہ ستمبر کے اختتام تک پنچایت راج اداروں کے انتخابات کی تکمیل کی ہدایت دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے پاس تلنگانہ اسمبلی میں منظورہ بل زیر التواء ہے لہذا حکومت نے پنچایت راج قانون میں ترمیم کرتے ہوئے بی سی طبقات کو تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گورنر نے اٹارنی جنرل اور تلنگانہ کے قانونی ماہرین سے رائے طلب کی ہے۔ دستور اور قانون کی مختلف پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے بعد گورنر یہ فیصلہ کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز کے پاس جس مسئلہ پر بل زیر التواء ہے اس کے لئے آرڈیننس کی اجارئی میں حکومت کو قانونی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تلنگانہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آرڈیننس اور اسمبلی میں منظورہ بل دونوں مختلف ہیں۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اے کے سنگھ کی حلف برداری کے موقع پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گورنر جشنودیو ورما سے درخواست کی کہ آرڈیننس کو جلد کلیرنس دیں۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی جانب سے جاریہ ماہ کے اختتام تک دی گئی مہلت کا حوالہ دیا اور کہا کہ تحفظات کو قطعیت دینے کے بعد انتخابی عمل پر آغاز ہونا باقی ہے۔ ریاستی کابینہ نے 10 جولائی کو آرڈیننس کے مسودہ کو منظوری دی تھی اور 14 جولائی کو یہ فائل گورنر کے پاس روانہ کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق گورنر نے تیقن دیا کہ وہ اندرون دو یوم اس مسئلہ پر کوئی موقف اختیار کریں گے۔ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے مقررہ 50 فیصد کی حد کو اہم رکاوٹ بتایا جارہا ہے۔ اگر 42 فیصد تحفظات پر عمل ہوتا ہے تو ریاست میں مجموعی تحفظات 70 فیصد ہو جائیں گے جن میں ایس سی طبقہ کے 18 اور ایس ٹی طبقہ کے 10 فیصد تحفظات شامل ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے طبقاتی سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وعدے کی تکمیل کے سلسلہ میں ریونت ریڈی حکومت کو ایک طرف مرکزی حکومت کے پاس زیر التواء بل تو دوسری طرف گورنر کے پاس آرڈیننس کی منظوری کا انتظار ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ گورنر آرڈیننس کو کلیرنس دیں گے جس کے بعد اسٹیٹ لیکشن کمیشن انتخابی شیڈول جاری کرے گا.