یہ ہیں سرکاری ملازم ‘تحصیلدار دفتر کی غفلت اور لاپرواہی آشکار

تحصیلدار آفس کی غفلت اور لاپرواہی کا واقعہ کھمم میں پیش آیا جہاں معصوم لڑکی کو برتھ سرٹیفیکٹ کی بجائے ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کردیا ۔ میڈیا اور سوشیل میڈیا میں یہ خبر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور عوام شدید ردعمل کا اظہار کرکے لاپرواہ عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ زندہ معصوم لڑکی کیلئے موت کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا واقعہ کسومانچھی ( Kusumanchi ) تحصیل میں پیش آیا ۔ متاثرین اس بات پر ناراض ہیں کہ مذکورہ سیکشن آفیسر نے غلطی قبول نہیں کی اور غلطی درست کرنے کے بجائے ان کی سرزنش کی ۔ تفصیلات کے بموجب منڈل گٹو سنگارام گاؤں کے اوپیندر اور ممتا نے اپنی دختر مادا ودیا کی پیدائش کے 6 ماہ بعد برتھ سرٹیفیکٹ کیلئے درخواست داخل کی ۔ سکریٹری نے گرام پنچایت دفتر میں ریکارڈ نہ ہونے پر تحصیلدار آفس میں درخواست دینے کا مشورہ دیا ۔ جوڑے نے 17 جولائی کو ایم آر او آفس میں چالان ادا کیا کئی دن چکر کٹوانے کے بعد بالآخر 4 اگست کو سرٹیفیکٹ حوالے کیا گیا ۔ لڑکی کی ماں نے جب سرٹیفیکٹ دیکھا تو حیران رہ گئی ۔ انہیں برتھ کی بجائے ڈیتھ سرٹیفیکٹ تھما دیا گیا تھا ۔ جب اس پر سیکشن آفیسر سے سوال کیا گیا تو اس نے ڈیتھ سرٹیفیکٹ چھین کر پھاڑ دیا ۔ عجلت میں برتھ سرٹیفیکٹ جاری کیا گیا ۔ اس میں ہاسپٹل کی تفصیلات درج نہ کرنے پر سیکشن آفیسر نے بدسلوکی کی ۔ جس کے بعد متاثرہ جوڑے نے تحصیلدار سے ملاقات کی کوشش کی مگر تب تک وہ گھر نکل گئے ۔ جب اس بارے میں تحصیلدار سے وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ چہارشنبہ کو دفتر نہیں گئے ۔ لڑکی کے والدین نے ٹیلی فون پر بات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ غلطی ہوئی تو اس کو درست کرکے برتھ سرٹیفیکٹ جاری کیا جائیگا۔
