تلنگانہ کے ساتھ مرکز کی ناانصافی، میٹرو ریل اور سیمی کنڈکٹر پراجکٹس نظر انداز

14last

مرکزی حکومت کا تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی اور جانبدارانہ رویہ بدستور برقرار ہے۔ تلنگانہ رائزنگ ویژن کے تحت چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت تلنگانہ کو صنعتی طور پر ترقی یافتہ اور ملک کی نمبر ون ریاست میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حکومت نے نئی صنعتوں کے قیام کیلئے بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کے معاہدات کئے ہیں اور حیدرآباد کے اطراف شہری ترقی کو یقینی بنانے کیلئے میٹرو ریل پراجکٹ کی توسیع کا منصوبہ ہے ۔ پراجکٹ کی تکمیل کے لئے تلنگانہ حکومت نے مرکز سے فنڈس کی درخواست کی ہے ۔ مرکزی حکومت حیدرآباد میٹرو فیس 2 کے لئے فنڈس کی اجرائی میں ٹال مٹول کرتے ہوئے مختلف بہانے تلاش کر رہی ہے ۔ ابتداء میں میٹرو پراجکٹ مرحلہ دوم کیلئے پراجکٹ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکومت نے مرکزی وزارت شہری ترقی کو پراجکٹ رپورٹ روانہ کرتے ہوئے فنڈس کی اجرائی کی درخواست کو مرکزی کابینہ کے اجلاس میں میٹرو پراجکٹ کے علاوہ سیمی کنڈکٹر پراجکٹ کی منظوری کے سلسلہ میں بھی مرکز نے تلنگانہ کو نظر انداز کردیا۔ ملک میں چار نئے سیمی کنڈکٹر پراجکٹس کو منظوری دی گئی جن میں ایک آندھراپردیش کے لئے منظور کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے سیمی کنڈکٹر پراجکٹ کے قیام کیلئے درکار انفراسٹرکچر تیار کئے اور اراضی بھی مختص کی گئی۔ امید کی جارہی تھی کہ تلنگانہ کو سیمی کنڈکٹر پراجکٹ منظور کیا جائے گا لیکن چار نئے پراجکٹ میں تلنگانہ شامل نہیں ہے ۔ میٹرو ٹرین پراجکٹ کے معاملہ میں نریندر مودی حکومت نے اترپردیش اور دیگر ریاستوں کے لئے توسیعی منصوبہ پر عمل آوری کو منظوری دی۔لکھنو میں میٹرو توسیعی منصوبہ کے تحت 11.16 کیلو میٹر توسیع کیلئے 5801 کروڑ مختص کئے گئے ۔ دیگر ریاستوں کے لئے فنڈس مختص کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت نے یہ واضح پیام دیا کہ مخالف بی جے پی حکومتوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ میٹرو کی تعمیر میں دنیا بھر میں ہندوستان کو تیسرا مقام حاصل ہے۔ ہر ماہ 6 کیلو میٹر تک میٹرو ریل کے کام انجام دیئے جاتے ہیں۔ میٹرو کے توسیعی کاموں کیلئے مرکزی حکومت نے 2013-14 میں 5799 کروڑ مختص کئے تھے جبکہ 2025-26 میں 34807 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ ملک کے 23 شہروں میں میٹرو ٹرین پراجکٹ پر عمل کیا جارہا ہے ۔ 2014 میں ملک بھر میں 248 کیلو میٹر میٹرو ریلوے لائین موجود تھی جو جاریہ سال بڑھ کر 1013 کیلو میٹر ہوچکی ہے۔ 11 برسوں میں 763 کیلو میٹر کی توسیع کی گئی۔ 2013-14 میں روزانہ 28 لاکھ افراد میٹرو سے سفر کرتے تھے جو بڑھ کر 1.12 کروڑ ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ملک کے کئی شہروں میں میٹرو پراجکٹ کے لئے بھاری فنڈس جاری کئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اترپردیش کے لکھنو میں 11.16 کیلو میٹر کے لئے 5801 کروڑ مختص کئے گئے ۔ مہاراشٹرا کے پونے میں میٹرو پراجکٹ فیس 2 کے تحت 12.75 کیلو میٹر کاموں کیلئے 3626 کروڑ مختص کئے گئے ۔ تھانے میں میٹرو پراجکٹ کے لئے 12200 کروڑ مختص کئے گئے اور جون میں تعمیری کاموں کا آغاز کیا گیا۔ کرناٹک میں بنگلور شہر میں 75 کیلو میٹر پر محیط میٹرو پراجکٹ موجود ہے اور مزید 145 کیلو میٹر کے توسیعی کام مختلف مراحل میں ہیں۔ میٹرو مرحلہ 3 کے تحت مزید 45 کیلو میٹر کاموں کی توسیع کے لئے مرکز نے 15600 کروڑ مختص کئے ہیں۔ حیدرآباد میں دن بہ دن بڑھتی ٹریفک سے عوام کو درپیش مسائل کا واحد حل میٹرو پراجکٹ تصور کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میں روزانہ 4 تا 5 لاکھ افراد میٹرو ٹرین سے سفر کرتے ہیں ۔ توسیعی کاموں کے ذریعہ کئی علاقوں کے عوام کو میٹرو کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے میٹرو پراجکٹ فیس 2 کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کی ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں ناگول تا شمس آباد ایرپورٹ 36.8 کیلو میٹر ، رائے درگم تا کوکا پیٹ 11.6 کیلو میٹر ، مہاتما گاندھی بس اسٹیشن تا چندرائن گٹہ 7.5 کیلو میٹر ، میاں پور تا پٹن چیرو 13.4 کیلو میٹر اور ایل بی نگر تا حیات نگر 7.1 کیلو میٹر توسیعی منصوبہ ہے۔ مجموعی طور پر 76.4 کیلو میٹر توسیعی منصوبہ کیلئے 24269 کروڑ کا تخمینہ طئے کیا گیا اور تلنگانہ حکومت نے پراجکٹ رپورٹ مرکز کو روانہ کی ہے۔ حکومت نے دوسرے مرحلہ کے توسیعی منصوبہ کے تحت مزید تین راہداریوں کا منصوبہ تیار کیا ۔ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ تا فیوچر سٹی 39.6 کیلو میٹر کاموں پر 7168 کروڑ خرچ کا تخمینہ ہے ۔ جوبلی بس اسٹیشن تا میڑچل 24.5 کیلو میٹر توسیعی منصوبہ پر 6946 کروڑ ، جوبلی بس اسٹیشن تا شاہ میر پیٹ 22 کیلو میٹر 5465 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ تیار کیا گیا۔ تینوں راہداریوں کی مجموعی مصافات 86.1 کیلو میٹر ہے اور پراجکٹ پر جملہ خرچ 19579 کروڑ کا اندازہ کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے مرکز اور ریاست کے جوائنٹ وینچر کے تحت پراجکٹ کی تکمیل کی تجویز پیش کی ہے۔ پراجکٹ رپورٹ کی روانگی کے ذریعہ تلنگانہ حکومت نے مرکز سے فنڈس میں حصہ داری کی امید وابستہ کی تھی۔ مرکزی حکومت نے حیدرآباد سے کم توسیعی منصوبہ والے شہروں کو فنڈس جاری کئے ۔ حیدرآباد میٹرو فیس 2 کی منظوری کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء سے بارہا نمائندگی کی لیکن مرکز کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیکھا گیا۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ کسی سیاسی اختلافات کے سبب مرکز تلنگانہ کے پراجکٹس کو نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت نے مرکز کے جانبدارانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے میٹرو پراجکٹ کی تکمیل کیلئے مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔