شہر اور اضلاع میں انٹرنیٹ میں رکاوٹ

Pp20-1536x805

دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ قومی سطح پر موضوع بحث بن چکی ہے اور مختلف گوشوں سے محکمہ برقی کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں برقی شاک لگنے کے سبب گذشتہ 2 یوم کے دوران 9افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کی ہدایت پر تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ نے سخت کاروائی کرتے ہوئے برقی کھمبوں پر موجود انٹرنیٹ کے علاوہ دیگر کیبل منقطع کردیئے جس کے نتیجہ میں دونوں شہروں کے علاوہ ریاست کے دیگر کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سربراہی میں خلل پیدا ہوگیا اور کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سربراہی کو بحال نہیں کیا جاسکا بلکہ خانگی انٹرنیٹ سربراہ کرنے والی کمپنیوں کے علاوہ بی ایس این ایل کی جانب سے سربراہ کئے جانے والے کیبل بھی کاٹ دیئے گئے جس کے نتیجہ میں بی ایس این ایل کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی پر سیلولر کمپنیوں کی جانب سے سخت اعتراض کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کے لئے جن تاروں کا استعمال کیا جاتا ہے ان سے برقی کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل نے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے انٹرنیٹ کیبل کو نکالتے ہوئے شہریوں میں تشویش پیدا کرنے کے علاوہ انہیں مشکل حالات میں مبتلاء کردیا ہے۔ سیلولر آپریٹرس اسوسیشن آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل نے تلنگانہ بالخصوص مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں کی گئی اس کاروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل نے جس انداز میں انٹرنیٹ کیبل کو منقطع کیا ہے وہ قابل اعتراض ہے کیونکہ انٹرنیٹ خدمات جو کہ دور حاضر میں لازمی خدمات کے زمرہ میں شمار کی جاتی ہیں ان کی سربراہی کو روکنے کے لئے متعلقہ کمپنیوں سے بات چیت کے بغیر کاروائی کی گئی ہے ۔ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے نتیجہ میں محض شہریوں کو یا انفرادی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ تلنگانہ کے بینکنگ نظام پر بھی انٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کا اثر دیکھا گیا۔سیلولر آپریٹرس اسوسیشن آف انڈیا اور ٹیلیکام آپریٹرس نے بتایا کہ دوشنبہ کی صبح سے ہی مختلف مقامات سے انٹرنیٹ سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کی شکایات موصول ہورہی تھیں اور اب کمپنیوں کی جانب سے انٹرنیٹ سربراہی بحال کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔کمپنیوں کے ذمہ داروں نے ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ بلا وجہ انٹرنیٹ کیبل کو منقطع کرنے کا فیصلہ نہ کریں کیونکہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے اس طرح کے اقدامات کے نتیجہ میں کمپنیوں کو کروڑہا روپئے کے نقصانات برداشت کرنے پڑتے ہیں بلکہ کروڑوں صارفین جو انٹرنیٹ کی سہولت کا استعمال کرتے ہیں انہیں مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔