اسمبلی میں منظورہ بلز کو طویل عرصہ تک زیرالتواء رکھنے کی مخالفت

تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں دلائل پیش کرتے ہوئے اسمبلی کی جانب سے منظورہ بلز کو صدرجمہوریہ اور گورنر کی جانب سے زیرالتواء رکھنے کی مخالفت کی۔ سپریم کورٹ میں گورنر اور صدرجمہوریہ کے اختیارات سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں سے موقف کی وضاحت طلب کی تھی۔ تلنگانہ حکومت نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ڈی سہگل کے ذریعہ سپریم کورٹ میں تحریری طور پر دلائل پیش کئے۔ حکومت نے واضح کیاکہ عوامی منتخب قانون ساز اداروں کی جانب سے منظورہ بلز کو زیرالتواء رکھنا مقننہ کے اختیارات میں مداخلت ہے۔ گورنر کو اسمبلی میں منظورہ بلز کو طویل عرصہ تک زیرالتواء رکھنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ پر اِس معاملہ کی سماعت جاری ہے اور صدرجمہوریہ کے ریفرنس پر عدالت اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے واضح کیاکہ دستور کی دفعہ 200 اور 201 کے تحت بلز کی منظوری کو روکا نہیں جاسکتا۔ گورنر کو کابینہ کی تجویز پر بہرصورت کارروائی کرنی چاہئے۔ تلنگانہ حکومت نے ٹاملناڈو اور پنجاب ہائیکورٹس کے فیصلوں کی نظیر پیش کی۔ تلنگانہ حکومت نے اپنے تحریری بیان میں کہاکہ اسمبلی میں منظورہ بلز کو جتنا جلد ممکن ہوسکے گورنر کی جانب سے منظوری دی جانی چاہئے۔ تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے 90 دن کی مہلت کی تائید کی اور طویل عرصہ تک بلز کو زیرالتواء رکھنے کی مخالفت کی۔ حکومت نے واضح کیاکہ گورنر کو چیف منسٹر کی زیرقیادت کابینہ کے تعاون اور اُس کی رائے کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ صدرجمہوریہ کے ریفرنس کو قبول نہ کیا جائے اور بلز کی منظوری کے سلسلہ میں گورنر اور صدرجمہوریہ کے لئے مہلت مقرر کی جائے تاکہ حکومتوں کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق اسمبلی میں منظورہ 2 علیحدہ بلز گزشتہ 5 ماہ سے صدرجمہوریہ کے پاس زیرالتواء ہیں۔
