ایم ایل سی کیلئے محمد اظہرالدین کے نام کو قطعیت دینا مسلمانوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف

TOP_15

تلنگانہ کابینہ نے گورنر کوٹہ کے تحت رکن قانون ساز کونسل کے لئے محمد اظہرالدین کے نام کو قطعیت دینا دراصل مسلمانوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان مجلس بچاؤ تحریک محمد امجد اللہ خان خالد نے صحافت کو جاری کردہ بیان میں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ محمد اظہرالدین جو سابق میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے اور حالیہ اسمبلی انتخابات میں جوبلی ہلز اسمبلی سے بھی مقابلہ کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی منصوبہ بند سازش کے ذریعہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے کسی غیر مسلم امیدوار کو کامیاب کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جوبلی ہلز اسمبلی میں غیر مسلم امیدوار نہ صرف کانگریس پارٹی سے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے بلکہ وہ کامیابی بھی حاصل کرے۔ چنانچہ اسی منصوبہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ کابینہ میں گورنر کوٹہ کے تحت اظہرالدین اور پروفیسر کودنڈا رام کو نامزد کرنے کے فیصلے لئے جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے گورنر کوٹہ کے تحت کودنڈا رام اور صحافی عامر علی خاں کی تقرری کو منسوخ کردیا تھا۔ چنانچہ اسی پس منظر میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے منصوبہ کے تحت عامر علی خاں کے بجائے محمد اظہرالدین کو ایم ایل سی کیلئے نامزد کرتے ہوئے جوبلی ہلز حلقہ سے غیر مسلم امیدوار کیلئے راہ ہموار کی۔ امجد اللہ خان خالد نے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنے ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ خود اپنے حواریوں کے ذریعہ ایک رٹ پٹیشن کورٹ میں داخل کرواتے ہوئے محمد اظہرالدین کو بھی قانون ساز کونسل سے برخاست کرنے کی حکمت عملی انجام دیں گے۔ چنانچہ چیف منسٹر ریونت ریڈی جو مسلمانوں کو حکومت میں شراکت داری سے دور رکھنے کے خواہاں ہیں، اس میں یقینا وہ کامیاب بھی ہوجائیں گے۔