مودی جاپان کے کامیاب دورہ کے بعد چین روانہ

امپورٹ ڈیوٹی کو لے کر امریکہ کے ساتھ جاری کشمکش کے درمیان جاپان کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ چین اور وہاں کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے اور دنیا کی نظریں ان تین بڑے ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی اس ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔ مودی اتوار کو شی جن پنگ اور پیر کو پیوتن سے چینی شہر تیانجن میں ملاقات کریں گے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کئی دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے ۔ مودی آج شام شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 25ویں میٹنگ میں شرکت کے لیے تیانجن پہنچے ۔ گزشتہ ایک سال کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر شی جن پنگ سے یہ دوسری ملاقات ہوگی، جو سات سال سے زائد عرصے کے بعد چین کا دورہ کر رہے ہیں، اور دونوں ممالک کو امید ہے کہ وہ پانچ سال قبل وادی گلوان میں اپنے فوجیوں کے درمیان پرتشدد تصادم سے پیدا ہونے والی تلخی کو دور کرنے اور تجارت سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی طرف آگے بڑھیں گے ۔ امریکہ کی جانب سے ہندوستان سمیت مختلف ممالک پر عائد بھاری درآمدی ڈیوٹی کے باعث دنیا بھر میں تجارتی محاذ پر اتھل پتھل کے درمیان وزیر اعظم کی ان ملاقاتوں کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔
