سردار محل کو جلد ہی عوام کے لیے کھول دیا جائے گا

حیدرآباد میں واقع سردار محل جو چارمینار کے مشرقی جانب واقع ہے جو بہت جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا ۔ سردار محل کی بحالی کا کام آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال اپریل تک مکمل ہوجائے گا ۔ ورثہ کی عمارت میں راجستھان کے نیمرانا فورٹ پالیس کی طرز پر آرٹ گیلری ، کیفے اور ہیرٹیج رہائش ہوگی ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی پرائیوٹ فرم کے ذریعے اٹھائے گئے بحالی کے کام کی نگرانی کررہی ہے ۔ ریاستی حکومت نے سردار محل کو بحال کرنے اور ایک آرٹ اسٹوڈیو ، ایک ثقافتی مرکز کے ساتھ ایک چھوٹے کیفے کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ کام مکمل ہونے کے بعد اسے سیاحوں کا مرکز بنایا جاسکے ۔ یہ منصوبہ 30 کروڑ روپئے کی لاگت سے شروع کا جارہا ہے ۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد یہ پرانے شہر کے اہم پرکشش مقامات میں سے ایک ہوگا ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے چیف انجینئر بی گوپال نے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے ۔ یہ اگلے سال اپریل تک مکمل ہونے کی امید ہے اس کے بعد عمارت کو دوبارہ استعمال میں لایا جائے گا ۔ سردار محل کو یوروپی طرز پر نظام ششم میر محبوب علی خاں نے 1900 میں تعمیر کیا تھا ۔ حالانکہ ریاست حیدرآباد کے اس وقت کے حکمران محبوب علی خان نے یہ محل اپنی محبوبہ سردار بیگم کے لیے بنوایا تھا ۔ لیکن اس نے محبت کی اس علامت میں رہنے سے انکار کردیا کیوں کہ یہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا ۔ وہاں کوئی نہیں ٹھہرا مگر عمارت نے اس کا نام لے لیا اور اسے سردار محل کے نام پر رکھا گیا ۔ اسے ہیرٹیج کنزرویشن کمیٹی اور انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیرٹیج (INTACH) نے ایک تاریخی عمارت قرار دیا تھا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کی وجہ سے 1965 میں سردار محل پر قبضہ کرلیا ۔
