حیدرآباد میٹرو ریل پر یکم مئی سے حکومت کی راست نگرانی

حیدرآباد میٹرو ریل فیز I خدمات یکم مئی سے تلنگانہ حکومت کی راست نگرانی میں چلائی جائیں گی۔ حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کی صد فیصد حصہ داری کو منتقل کردیا ہے اور حیدرآباد میٹرو پوری طرح حکومت کے کنٹرول میں آچکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے انتظامات کے تحت یکم مئی سے میٹرو خدمات حکومت کی نگرانی میں چلائی جائیں گی۔ حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کے نئے بورڈ آف ڈائرکٹرس کا تقرر کیا ہے اور چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ صدرنشین مقرر کئے گئے۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس میں جیش رنجن، وکاس راج، سندیپ کمار سلطانیہ، بی شیودھر ریڈی، اشوک ریڈی، جتیش پاٹل کو شامل کیا گیا۔ سرفراز احمد آئی اے ایس کو منیجنگ ڈائرکٹر اور شیویندر پرتاپ کو جوائنٹ منیجنگ ڈائرکٹر مقرر کیا گیا۔ حیدرآباد میٹرو ریل کی مؤثر خدمات کے لئے 10 ارکان پر مشتمل یہ کمیٹی سرگرم ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں 28 مارچ کو قرارداد منظور کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل فیز I کو ایل اینڈ ٹی سے حکومت کے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے اِس مرحلہ کی تکمیل کے لئے ایل اینڈ ٹی کو 2000 کروڑ ادا کئے ہیں۔ حکومت نے کمپنی کے 13000 کروڑ کے قرض کو بھی اختیار کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 30 اپریل تک حکومت کی جانب سے مساوی حصہ داری اور قرض کے طور پر جملہ 15000 کروڑ ادا کرتے ہوئے میٹرو ریل پراجکٹ کو مکمل تحویل میں لیا جائے گا۔
