آٹو فینانس ‘ ایک بڑا اسکام ۔ غریب ڈرائیورس سے لوٹ ‘ حکومت کو بھی دھوکہ

3last

ویسے تو آج کل ضرورت زندگی کی ہر شئے اقساط پر مل جاتی ہے ۔ بڑی کمپنیوں کی جانب سے زیرو فینانس پر عوام کو ان کی ضرورت کا ساز و سامان مہیاء کروایا جا رہا ہے ۔ چاہے موبائیل فون ہو یا پھر ٹی وی سیٹ ہو ‘ ائر کنڈیشن ہو یا فرنیچر ہو ‘ واشنگ مشین ہو یا پھر کوئی اور شئے ہو سب کچھ اقساط پر دستیاب ہوجاتا ہے ۔ تاہم ان سب سے پہلے سے ایک کاروبار آٹو فینانس کا چل رہا ہے جس کے ذریعہ فینانسرس نہ صرف غریب آٹو ڈرائیورس کو لوٹ مار کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ حکومتوںکو بھی دھوکہ دینے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس جانب کسی کی توجہ مبذول نہیں ہوتی اور فینانسرس من مانی انداز میں لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ آٹو فینانس کرنے والے فینانسرس انتہائی بھاری شرح سود حاصل کرتے ہیں جس کی قانونا کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ جو سود کی قسط تین تا چار لاکھ روپئے کے فینانس پر حاصل کی جاتی ہے اتنا ہی سود آخری چھ تا آٹھ ہزار روپئے کی قسط پر بھی حاصل کیا جاتا ہے جو تقریبا 80 فیصد تک پہونچ جاتا ہے ۔ اگر کوئی 36 ماہ کا فینانس کرواتا ہے یا پھر 48 ماہ کا فینانس کرواتا ہے تو اسے آخری
قسط کی ادائیگی تک تقریبا 80 فیصد سود ادا کرنا پڑتا ہے اور آٹو ڈرائیورس بحالت مجبوری فینانسرس کے ظلم اور استحصال کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ غریب آٹو ڈرائیورس میں ہر مذہب اور طبقہ کے لوگ شامل ہیں جو ان فینانسرس کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور خود دن رات محنت کرنے کے باوجود بھی اپنے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات کو پورا نہیں کرپاتے ۔ جو آٹو فینانس کرنے والے ادارے اور کمپنیاںہیں وہ من مانی انداز میں کام کرتے ہیں۔ آٹوز پر جو فینانس کیا جاتا ہے اس کی مکمل تفصیلات بھی سرکاری محکمہ جات کو پیش نہیں کی جاتیں۔ سرکاری حساب کتاب الگ ہوتا ہے اور ان کا اپنا نجی حساب کتاب الگ سے ہوتا ہے ۔ ان فینانس کمپنیوں نے خانگی غنڈہ عناصر کو بھی پال رکھا ہے ۔ جو کوئی ڈرائیور دو تا تین قسط ادا نہیں کرپاتا اس کی گاڑی کو بیچ سڑک پر انتہائی دھڑلے کے ساتھ روک لیا جاتا ہے ۔ آٹو میں مسافر بھی ہوں تو انہیں بھی اتار دیا جاتا ہے اور گاڑی ضبط کرلی جاتی ہے ۔ جبکہ ایسا کرنا قطعی غیرقانونی ہے لیکن ان فینانسرس اور ان کے غنڈوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ گاڑی کی ضبطی کیلئے نہ عدالتی حکم ہوتا ہے اور نہ پولیس سے کوئی اجازت حاصل کی جاتی ہے ۔ غنڈہ عناصر دھمکاتے ہوئے گاڑیاں ضبط کرلیتے ہیں۔ جب ڈرائیور قسط ادا کرنے پہونچتے ہیں تو ضبطی کی فیس کے نام پر ان سے 3000 تا 5000 روپئے الگ سے وصول کئے جاتے ہیں اور جو قسط باقی ہوتی ہے اس پر الگ سے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔ جو غنڈہ عناصر گاڑیاں ضبط کرنے پر مامور ہیں انہوں نے شہر میں مصروف سڑکوں پر بھی اپنے ’ اڈے ‘ بنالئے ہیں۔ جس طرح سٹہ بازوں کے ہاتھوں میں چارٹ ہوتے ہیں اسی طرح ان کے پاس گاڑیوں کے نمبر ہوتے ہیں اور وہ جہاں کوئی گاڑی نظر آئے اسے فوری روک لیتے ہیں۔ بسا اوقات تو غریب آٹو ڈرائیورس کو نہ صرف دھمکایا جاتا ہے بلکہ ان کے ساتھ مارپیٹ بھی کی جاتی ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی غریب مسلمان بھی اس آٹو فینانس کی لعنت کا شکار ہوئے ہیں ‘ ہورہے ہیںاور شائد ہوتے بھی رہیں گے اور ان کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے ۔ ویسے تو مختلف بہانوں سے ہڑتال کرنے کیلئے آٹو ڈرائیورس کی کئی یونینیں موجود ہیں لیکن فینانسرس کے معاملے میں یہ بھی معنی خیز خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور فینانسرس کے خلاف لب کشائی نہیں کرتیں ۔ اس خاموشی کی کیا وجہ ہے یہ تو یونین کے ذمہ دار ہی بتاسکتے ہیں۔ ویسے بھی کچھ آٹو ڈرائیورس کا ماننا ہے کہ یونین کے ذمہ داروں کی بھی فینانسرس سے ملی بھگت ہوتی ہے ۔ وہ عام ڈرائیورس کے معاملات پر خاموشی اختیار کرکے اپنے معاملات پر فینانسرس سے سودے بازی کرلیتے ہیں اور خود فائدہ حاصل کرلیتے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بے شمار فینانسرس شہر میں ایسے ہیں جو اپنے ریکارڈز شفاف انداز میں نہیں رکھتے اور محکمہ انکم ٹیکس یا دوسرے سرکاری محکمہ جات کو درست حساب کتاب پیش نہیں کرتے ۔ وہ سرکاری حساب کتاب الگ رکھتے ہیں اور ان کا جو نجی حساب کتاب ہوتا ہے جس میں ساری لوٹ مار درج ہوتی ہے وہ الگ سے رکھا جاتا ہے ۔ اس طرح یہ فینانسرس نہ صرف غریب آٹو ڈرائیورس کا خون چوس رہے ہیں بلکہ حکومتوں کو بھی ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکس کی چوری کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ اس جانب متعلقہ سرکاری محکمہ جات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ غریب آٹو ڈرائیورس کے استحصال کا سلسلہ بند ہوسکے اور جس ظلم اور لوٹ مار کا ایک عرصہ سے سلسلہ جاری ہے اس پر قابو پایا جاسکے ۔