میر عالم تالاب کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت

TOP_7-3

میر عالم تالاب کے تحفظ کے اقدامات کو فوری طور پر تیز کرنے اور قبضہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو روکنا ضروری ہے کیونکہ اگر میر عالم تالاب کے پانی میں تعمیراتی ملبہ ڈالتے ہوئے اسے مسطح کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اطراف و اکناف کے علاقوں میں موجود بستیوں میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوگا اور جو نشیبی علاقے ہیں ان محلہ جات میں بارش کے دوران پانی جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ میر عالم تالاب کے اطراف کی جانے والی تعمیرات بالخصوص عیدگاہ میر عالم کے عقب میں موجود تالاب کے حصہ کو تعمیراتی ملبہ ڈالتے ہوئے تالاب میں زمین بنائی جارہی ہے اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے اس سلسلہ میں متعدد شکایات کے باوجود کسی بھی طرح کی کاروائی کرنے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ مقامی مکینوں نے ’حیڈرا‘ کے عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ تالاب کو بھرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ’لینڈ شارک‘ پرانے شہر حیدرآباد کی گنجان آبادی کے درمیان موجود اس تاریخی تالاب کی مکمل سطح آب میں تعمیری ملبہ ڈالتے ہوئے تالاب کے دائرہ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور تالاب میں بنائی جانے والی اراضیات کی فروخت کے اقدامات بھی کئے جانے لگے ہیں۔محکمہ آبپاشی کے علاوہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ریکارڈس کے مطابق شہرحیدرآباد میں موجود میر عالم تالاب 260 ایکڑ پر محیط تالاب ہے اور اس تالاب میں تعمیری ملبہ ڈالتے ہوئے تالاب کے دائرہ کو کم کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور اس سلسلہ میں متعدد شکایات کی جاچکی ہیں لیکن متعلقہ محکمہ جات واداروں کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے میر عالم تالاب میں کیبل برج کی تعمیر کے منصوبہ کے اعلان اور اس سلسلہ میں شروع کئے گئے تعمیراتی کاموں کے ساتھ ہی تالاب کو بھرتے ہوئے اراضیات کے دائرہ میں اضافہ کرنے اور تالاب کے دائرہ کو چھوٹا کرنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ میر عالم تالاب میں کئے جانے والے ناجائز قبضہ جات کے نتیجہ میں نہروزوالوجیکل پارک کے سفاری پارک میں ہر سال موسم باراں کے دوران پانی جمع ہونے لگا ہے جو کہ میر عالم تالاب سے سفاری پارک میں داخل ہوتا ہے ۔ اگر اسی طرح تالاب میں قبضہ جات کاسلسلہ جاری رہتا ہے اور اسے روکا نہیں جاتا ہے تو ایسی صورت میں اطراف و اکناف کی بستیوں کو بھی موسم باراں کے دوران خطرات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق مقامی عوام نے اپنے ناموں کا انکشاف نہ کرنے کی شرط پر ’حیڈرا‘ کو میر عالم تالاب کی قدیم اور نئی تصاویر کے علاوہ تالاب کے دائرہ کو سکڑنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں لیکن اس کے باوجود تاحال ’حیڈرا‘ کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ ان شکایات کو نظرانداز کئے جانے کا الزام عائد کیا جار ہاہے لیکن بعض گوشوں سے تالاب میں کسی بھی طرح کی تعمیرات سے قبل عدالت سے رجوع ہونے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ تالاب کو محفوظ رکھا جاسکے۔3