آلودگی سے متاثر پانی ، دہلی ، مہاراشٹرا اور اترپردیش سرفہرست

ملک میں عوام کو آلودگی سے پاک پانی کی سربراہی حکومتوں کے لئے چیلنج بن چکی ہے ۔ صنعتی ترقی کے ذریعہ سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مصروف حکمرانوں کو صنعتی آلودگی میں کمی کے لئے سخت گیر قدم اٹھانے ہوں گے ۔ گزشتہ سال ملک میں آلودگی سے پاک پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں سروے کیا گیا۔ سروے کے مطابق میزورم اور سکم میں عوام کو آلودگی سے پاک پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور دونوں ریاستوں میں صنعتی آلودگی کی کمی نے حکومت اور عوام دونوں کو راحت فراہم کی ہے ۔ سروے کے مطابق میزورم میں 92.5 فیصد آلودگی سے پاک پانی سربراہ کیا جارہا ہے جبکہ سکم میں 91 فیصد صاف پانی عوام کے لئے دستیاب ہے۔ صنعتی آلودگی کے معاملہ میں دہلی ، اترپردیش اور مہاراشٹرا سرفہرست ہے جہاں صاف پانی کی سربراہی حکام کیلئے دشوار کن بن چکی ہے۔ دہلی میں محض 50 فیصد صاف پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور 50 فیصد پانی میں آلودگی پائی گئی۔ اترپردیش میں سربراہ کئے جانے والے پانی میں 45 فیصد آلودگی پائی گئی ہے اور 55 فیصد صاف پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ مہاراشٹرا میں 58.5 فیصد صاف پانی عوام کو سربراہ کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں 74 فیصد جبکہ آندھراپردیش میں 70 فیصد صاف پانی عوام کیلئے دستیاب ہے۔ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں جنگلات کی کثرت اور کم آبادی کے نتیجہ میں آلودگی کا امکان کم ہے جبکہ دہلی ، اترپردیش ، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں صنعتی ترقی نے زیر زمین پانی کو بھی آلودہ کردیا ہے۔ سروے کے مطابق شہری علاقوں میں ذخائر آب میں صنعتی فضلاء ، سیویج اور دیگر آلودہ اشیاء کی شمولیت کے نتیجہ میں پینے کا پانی آلودگی کا شکار ہورہا ہے۔
