بی آر ایس قائدین اور صحافیوں کے فون ہیل کرنے کے ٹی آر کا الزام

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ نے ریاست کی کانگریس حکومت اور بالخصوص چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین کے ٹیلیفون ہیکنگ کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے ۔ سنگاریڈی کے سنٹرل جیل میں کے ٹی آر نے پارٹی کے دیگر قائدین کیساتھ ایم کرشنک سے ملاقات کی ، بعد ازاں انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور پولیس کے رویہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت بی آر ایس قائدین اور صحافیوں کے فون ہیک کروا رہی ہے ۔ اس جاسوسی کے ذریعہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کون کس سے بات کررہا ہے ۔ کے ٹی آر نے مشورہ دیا کہ چیف منسٹر اپنی تمام تر توجہ بی آر ایس اور سوشل میڈیا پر مرکوز کرنے کے بجائے ریاست کی گورننس اور امن و امان کی صورتحال پر دیں ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے بی آر ایس سوشل میڈیا کے کنوینر مانے کرشنک کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت سے جاری بدعنوانی پر سوال کرنے پر انہیں جیل بھیجا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ان کے خلاف 35 مقدمات درج کر کے خوش ہورہے ہیں جوکہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے ۔ کریم نگر میں کل زیورات کی دکان پر ہونے والے حملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کا جنازہ نکل چکا ہے ۔ انہوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ وہ بی آر ایس قائدین کے خلاف ’’ اوور ایکشن ‘‘ کررہی ہے اور موجودہ حکومت کیلئے ایک پرائیوٹ آرمی کے طور پر کام کررہی ہے ۔ سنگاریڈی سنٹرل جیل پہنچنے والے بی آر ایس کے وفد میں ارکان اسمبلی سبیتا اندرا ریڈی ، اے چنتا پربھاکر ، کے پی ویویکا نند اور پی کوشک ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔
