مرکزی حکومت کی نیشنل فیملی بنیفٹ اسکیم میں بڑی تبدیلی

مرکزی حکومت نے غریب خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے والی نیشنل فیملی بنیفٹ اسکیم کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی ہیں ۔ اس نئے فیصلے کا مقصد درخواستوں کی منظوری میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر کو ختم کرنا اور متاثرہ خاندانوں تک جلد از جلد امداد پہونچانا ہے ۔ پہلے اس اسکیم کے تحت درخواستوں کی جانچ پڑتال تحصیلدار کے ذریعہ ہوتی تھی اور رپورٹ کلکٹر کو بھیجی جاتی تھی ۔ جس میں کافی وقت ضائع ہوتا تھا۔ اب مرکز نے یہ اختیارات منڈل پریشد ڈیولپمنٹ آفیسرس (MPDOs) ٹاون اور میونسپل کمشنروں کو سونپ دئیے ہیں۔ ان عہدیداروں کو اندرون 10 یوم تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ اگر کسی غریب خاندان میں واحد روٹی کمانے والا شخص ( عمر 18 سے 60 ) سال کے درمیان فوت ہوجائے ۔ یہ اسکیم ان خاندانوں کے لیے ہیں جہاں موت 13 اپریل 2017 کے بعد ہوئی ۔ منظوری کے بعد امدادی رقم کسی درمیانی شخص کے بغیر براہ راست متاثرہ خاندان کے بینک اکاونٹ میں جمع کردی جائے گی ۔ اہل امیدواروں کو درج ذیل دستاویزات کے ساتھ می سیوا سنٹرس میں درخواست دینی ہوگی اور پھر دستاویزات مقامی اداروں کے دفاتر میں جمع کرانے ہوں گے ۔ متوفی کا آدھار کارڈ اور ڈیتھ سرٹیفیکٹ ، متوفی کی عمر کی تصدیق کا سرٹیفیکٹ ، فوڈ سیکوریٹی کارڈ (راشن کارڈ ) درخواست گذار کا آدھار کارڈ اور بینک پاس بک کاپی ، آمدنی کا سرٹیفیکٹ ، فیملی ممبر سرٹیفیکٹ پیش کرنا لازمی ہوگا ۔ حکام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سائٹ پر جاکر تحقیقات کریں اور 10 دن کے اندر گرانٹ کی سفارش کریں ۔ اس نئی تبدیلی سے غریب خاندانوں کو بروقت سہارا ملنے کی امید ہے ۔
