طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا مرکز پر الزام : کے ٹی آر

ktrr-copy-Copy

سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ بارہویں جماعت کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ایک نیا بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے اس حساس مسئلہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت اور CBSE بورڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ کے ٹی آر نے سنسنی خیز الزام لگایا ہے کہ جو متنازعہ کمپنی ماضی میں تلنگانہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں سنگین گڑبڑ کی ذمہ داری تھی اسی بلیک لسٹیڈ کمپنی نے اب اپنا نام بدل کر سی بی ایس ای کا بڑا کنٹراکٹ حاصل کرلیا جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ کے ٹی آر نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر بارہویں جماعت کے ان طلبہ کو مبارکباد دی اور ان کی ستائش کی جو CBSE کے نمبرات کی تقسیم میں ہونے والی نا انصافیوں اور فاش غلطیوں کے خلاف سڑکوں پر بہادری سے لڑ رہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ گلوبارنیا وہی کمپنی ہے جس نے سال 2019 کے دوران تلنگانہ میں انٹر میڈیٹ کے نتائج میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے پوری ریاست میں ایک بڑا انتشار اور کہرام مچا دیا تھا جس کے نتیجے میں کئی معصوم طلبہ نے انتہائی اقدامات کرلیے تھے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نا اہل کمپنی نے اب چہرے بدل کر سی بی ایس سی سے ایک بڑا معاہدہ حاصل کرلیا ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے CBSE بورڈ پر براہ راست سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ایک نا اہل اور کرپٹ فرم کو فائدہ پہونچانے کے لیے اپنے قائم کردہ قوانین میں بار بار تبدیلیاں کیں اور کمپنی کی ماضی کی داغدار تاریخ کو یکسر نظر انداز کردیا ۔