SIR کے نام پر سائبر دھوکہ دہی سے عوام ہوشیار رہنے کا مشورہ

TOP_16-3

ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی SIR عمل کے دوران سائبر مجرموں اور جعلسازوں کا نیا اور خطرناک روپ سامنے آیا ہے ۔ چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی نے شہریوں اور ووٹرس کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایس آئی آر فارم اور ووٹر ڈیٹا کی تصدیق کے نام پر بھیجے جانے والے جعلی پیغامات ، واٹس ایپ لنکس اور فون کالس سے انتہائی ہوشیار رہے ۔ سدرشن ریڈی نے واضح کیا کہ سنٹرل الیکشن کمیشن یا ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے ووٹرس کو کسی قسم کا لنک کھول کر فارم بھرنے یا آن لائن رقم ادا کرنے کے لیے کوئی میسیج یا کال ہرگز نہیں کی جاتی ۔ انتخابی حکام کی نشاندہی کے مطابق سائبر مجرمین شہریوں کو گمراہ کرنے ووٹرس کو جھوٹے میسیج روانہ کرتے ہوئے ان کے اینومریشن فارم غلط بھرا گیا ہے ان کا ڈیٹا میچ نہیں ہورہا ہے یا ان کا فارم مسترد کیا جارہا ہے ۔ فارم کی درستگی کے نام پر ایک مخصوص نمبر پر کال کرنے یا واٹس ایپ پر بھیجے گئے لنک کو کھول کر فارم دوبارہ بھرنے کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ پروسیسنگ فیس کے نام پر صرف 5 روپئے ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کریڈٹ کارڈ ، ڈیبٹ کارڈ یا نیٹ بنکنگ کے ذریعہ لاگ ان کروایا جاتا ہے ۔ اس دوران صارفین کے لاگ ان تفصیلات ، پاس ورڈ ، CVV نمبر اور ATM PIN چوری کر کے ان کے بینک کھاتے خالی کیے جارہے ہیں ۔ تلنگانہ سائبر سیکوریٹی بیورو نے بھی شہریوں کو SIR فارم اور الیکشن کمیشن کے نام پر ہونے والے اس سائبر فراڈ کے خلاف الرٹ جاری کیا ہے ۔ بیورو نے مشورہ دیا ہے کہ کسی نامعلوم لنک پر کلک نہ کریں اور نہ ہی انتخابی عمل کے نام پر کسی کو اپنے بنکنگ یا کارڈ کی تفصیلات نہ دیں ۔ اگر کوئی ووٹر اس قسم کے فراڈ کا شکار ہوتا ہے یا اسے مشکوک پیغام موصول ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ قائم کریں ۔ اس کے علاوہ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل cybercrime.gov.in پر آن لائن شکایت درج کروائیں ۔