حیدرآباد کور اربن ریجن کے 18 ہزار آٹو رکشاؤں کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے200 کروڑ منظور

TOP_21-1

تلنگانہ کابینہ میں حیدرآباد کے کور اربن ریجن کو آلودگی سے پاک بنانے کیلئے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے آٹو رکشاؤں کے الیکٹرک آٹو میں تبدیل کرنے کیلئے 1.5 لاکھ روپئے سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس چیف منسٹر ریونت ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ ڈسمبر میں تلنگانہ رائیزنگ انویسٹمنٹ سمٹ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا جس کے انتظامات کیلئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی اور وزیر ایس سی ڈیولپمنٹ لکشمن کمار نے میڈیا کے نمائندوں کو کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے کور اربن ریجن علاقہ کو گرین سٹی میں تبدیل کرنے کیلئے آٹو رکشاؤں کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے کی منفرد اسکیم منظور کی گئی۔ حیدرآباد میں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے آٹو رکشاؤں کی تعداد 18766 درج کی گئی ہے۔ کابینہ نے الیکٹرک آٹو میں تبدیل کرنے کیلئے 200 کروڑ کی منظوری دی ہے ۔ اسکیم کے تحت مستحق آٹو ڈرائیورس کو سبسیڈی کے طور پر فی کس 1.50 لاکھ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ اسکیم کے تحت آٹو میں الیکٹرک کٹ کو نصب کرنے یا پھر قدیم آٹو کو ختم کرتے ہوئے نیا الیکٹرک آٹو خریدنے کی سہولت رہے گی۔ سرینواس ریڈی نے بتایا کہ حیدرآباد کور اربن ریجن کے تحت آلودگی پر قابو پانے میں یہ فیصلہ مددگار ثابت ہوگا۔ کابینہ نے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود سے صنعتوں کی منتقلی کیلئے جو Hilt پالیسی تیار کی ہے ، اس سے استفادہ کیلئے درخواستوں کے ادخال کی مدت میں 31 اکتوبر تک تین ماہ کی توسیع دی گئی۔ ہلٹ پالیسی کے تحت آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کو آؤٹر رنگ روڈ کے باہری حدود میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سلسلہ میں صنعت کار 31 اکتوبر تک درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں سے آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ کابینہ نے ریاست کے تمام آئی ٹی آئی ، پالی ٹیکنکس اور اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس کو ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نوجوانوں کو ٹکنیکل کے مختلف کورسس میں ٹریننگ کیلئے یہ ادارے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی سے اشتراک کریں گے۔ حکومت نے تلنگانہ کے تمام آئی ٹی آئیز کو اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرینواس ریڈی نے بتایا کہ 15 اگست یوم آزادی کے موقع پر ریاست بھر میں اسمارٹ راشن کارڈس کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر سیول سپلائیز اتم کمار ریڈی سنگاریڈی میں 2 بجے دن اسمارٹ راشن کارڈس کی تقسیم کا آغاز کریں گے۔ ریاست میں جملہ 1.6 کروڑ اسمارٹ راشن کارڈس تقسیم کئے جائیں گے جس کے تحت استفادہ کنندگان کی تعداد 3.42 لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے تقسیم کے آغاز کے بعد تمام ضلع ہیڈ کوارٹرس میں انچارج وزراء اسمارٹ راشن کارڈس کی تقسیم عمل میں لائیں گے۔ سنگا ریڈی میں تقریب کے وسیع تر انعقاد کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد ریاست میں راشن کارڈ استفادہ کنندگان کی تعداد 2.81 کروڑ تھی۔ کانگریس حکومت نے نئے راشن کارڈس جاری کئے جس کے ذریعہ 62 لاکھ استفادہ کنندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ راشن کارڈس ہر اعتبار سے محفوظ رہیں گے ۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح جاریہ سال 7 تا 9 ڈسمبر تلنگانہ رائزنگ انویسٹمنٹ سمٹ فورتھ سٹی میں منعقد کیا جارہا ہے ۔ سمٹ کے انعقاد کیلئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے صدرنشین ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ہوں گے جبکہ ارکان میں اتم کمار ریڈی ، سریدھر بابو اور جی ویویک وینکٹ سوامی کو شامل کیا گیا ہے۔ کابینی سب کمیٹی انویسٹمنٹ سمٹ کے انعقاد کے بارے میں اہم فیصلے کریں گے۔ تلنگانہ رائزنگ ویژن 2047 کے تحت بیرونی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کیلئے سمٹ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ریاست میں ڈیفنس ، ایرو اسپیس اور فارما شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور عالمی سطح کے اداروں کو انویسٹمنٹ سمٹ میں مدعو کیا جائے گا۔ کابینہ نے کسانوں کو 7 اقسام کے باریک چاول کی پیداوار پر فی کنٹل 500 روپئے بونس کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی پیداوار میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے ۔ گزشتہ ربیع سیزن میں حکومت نے کسانوں سے 81.16 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریدی کی تھی جبکہ مرکزی حکومت نے 63.62 لاکھ میٹرک ٹن دھان حاصل کیا ہے۔ باقی 17.54 لاکھ میٹرک ٹن دھان کو ای آکشن کے ذریعہ فروخت کرنے کا کابینہ نے فیصلہ کیا ۔ کابینہ نے عادل آباد ، نرمل ، مدہول ، بوتھ ، سرپور ، گجویل اور دوباک میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوںکی تعمیر کو منظوری دی ہے۔ 7 اسمبلی حلقہ جات میں اقامتی اسکول تعمیر کئے جائیں گے۔ ریاست میں 113 اسمبلی حلقہ جات میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ابھی تک 86 انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی منظوری دی گئی۔ باقی اسمبلی حلقہ جات میں مرحلہ وار طور پر اقامتی اسکولوں کی تعمیر عمل میں آئے گی۔ انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلبہ کو ایک چھت کے تحت ہی تعلیم اور رہائش کی سہولت حاصل رہے گی۔ ہر اسکول کی تعمیر پر 200 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ کابینہ نے مکتھل ، نارائن پیٹ ، کوڑنگل، لفٹ اریگیشن اسکیم فیس 2 کے تعمیری کاموں کیلئے 2100 کروڑ کی منظوری دی ہے۔ پراجکٹ کے ذریعہ ایک لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا۔ وزیر مال نے بتایا کہ ریاست میں ممنوعہ فہرست میں شامل اراضیات سے متعلق تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کی ہدایت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اراضیات جو سرکاری نہیں ہیں اور جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر دوران نہیں ہیں ان کی جلد یکسوئی کی جائے گی۔