نوٹ برائے ووٹ معاملہ کی سپریم کورٹ میں از سر نو سماعت

Supreme-Court-of-india

سپریم کورٹ میں تلنگانہ کے نوٹ برائے ووٹ مقدمہ کی از سر نو سماعت ہوگی کیونکہ اس کیس کی سماعت کرنے والے ججس وظیفہ پر سبکدوش ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی زیر قیادت بنچ نے کہا ہے کہ اس معاملہ کی نئے بنچ پر از سر نو سماعت ہوگی۔ اس کیس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی اہم ملزم ہیں جو نوٹ برائے ووٹ معاملہ کے منظر عام پر آنے کے وقت تلگودیشم کے رکن اسمبلی تھے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ جن ججس نے اس معاملہ کی سماعت کی ہے وہیں سے دوبارہ سماعت ممکن نہیں ہے لہذا اس معاملہ کی موجودہ بنچ پر از سر نو سماعت ہوگی۔ ریونت ریڈی اور ایس وینکٹ ویریا نے اس معاملہ میں اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات کو چیالنج کیا ہے۔ بی آر ایس کے قائدین سماعت کے دوران مقدمہ میں بطور فریق شامل ہوئے۔ بی آر ایس کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ کی ابتدائی سماعت مکمل ہوچکی ہے جس پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ دوبارہ از سر نو سماعت کے لئے عنقریب تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 2015 میں ایم ایل سی انتخابات کے موقع پر رکن اسمبلی اسٹیفنسن کو تلگودیشم امیدوار کے حق میں ووٹ کے لئے مبینہ طور پر رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔ اینٹی کرپشن بیورو اس معاملہ کی جانچ کی۔