آبنائے ہرمز ’آبنائے ٹرمپ ہے‘، صدر امریکہ کی نئی شرارت

US-President-Donald-Trump-6-1-1536x864

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ایک تصویر شیئر کی ہے جس پر ’’ٹرمپ اسٹریٹ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجویز کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ چند شرائط تسلیم کر لے تو ایک ہفتے کے اندر اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ہفتے کی علی الصبح ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کی ایک تصویر پوسٹ کی جس پر ’’ٹرمپ اسٹریٹ‘‘ درج تھا۔ ایران کی نئی تجویز کے بعد یہ پہلا عوامی اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ ایران نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ یہ معاہدہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز صرف اتنا کہا کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی حکام اور ثالثوں کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت جاری ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کئی گھنٹوں پر محیط بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے۔ ایران کے نیم سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد نیویارک سے تہران روانہ ہو گئے ہیں۔ اس اجلاس سے خطاب میں پزشکیان نے ٹرمپ کی اس تازہ دھمکی کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ’’صفحہ ہستی سے مٹا دینے‘‘ کی بات کی تھی، تاہم اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ تہران اب بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کی رات صحافیوں کو بتایا کہ تہران کی تجویز کے تحت ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور اپنے نیوکلیر پروگرام پر مذاکرات بحال کر دے گا، بشرطیکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی دے اور ایسی جنگ بندی کا احترام کرے جس میں لبنان بھی شامل ہو۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک معروف امریکی اخبار کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جس میں حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرمپ تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کیلئے تیار نہیں۔ امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں اور معاونین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران پر دباؤ برقرار رکھنا ہی حتمی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے نیک نیتی پر مبنی دعووں پر بالکل بھی یقین نہیں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تہران امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے میں مخلص نہیں ہے، جس کے باعث مذاکرات کے دروازے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں اور کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ایران نے اپنی اس تجویز میں اہم شرط یہ رکھی تھی کہ اگر امریکہ ان کی بندرگاہوں پر عائد ناکا بندی ختم کرے تو جواب میں وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیں گے اور نیوکلیر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کیلئے بھی تیار ہو جائیں گے، تاہم اس پیشکش کو کوئی پذیرائی نہ مل سکی۔