پسماندہ طبقات کے طلبہ کو اسکالرشپ کے طور پر 450 کروڑ کی اجرائی

ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت کمزور طبقات بالخصوص بی سی طبقات کی بھلائی کے اقدامات کی پابند ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد بی سی طبقات کی بھلائی کے لئے مختلف اسکیمات پر عمل کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر کے ہمراہ سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں بی سی طبقات کے لئے اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سکریٹری بی سی ویلفیر بالا مایادیوی کے علاوہ مختلف بی سی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ بی سی طلبہ کے لئے ڈائرکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اسکیم کے تحت پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی رقم راست طور پر طلبہ کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کی گئی ہے۔ نئی اسکیم کے تحت ایک لاکھ 30 ہزار طلبہ کے بینک اکاؤنٹس میں 450 کروڑ جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی ہاسٹلس کے طلبہ کے لئے ڈائٹ اور کاسمیٹک چارجس ہر ماہ پابندی کے ساتھ جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 60 کروڑ کی لاگت سے تاڑی تاسندوں کے لئے 40 ہزار کٹس تقسیم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ راجیو یووا وکاسم اسکیم کے تحت نومبر میں بی سی طلبہ کے لئے خود روزگار اسکیمات کے تحت امداد جاری کی جائے گی۔ اسکیم کے لئے ضلع کلکٹرس کی سطح پر درخواستوں کی جانچ کا کام جاری ہے اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شفافیت کے ساتھ مستحق امیدواروں کے ناموں کا انتخاب کریں۔ بھٹی وکرامارکا نے تیقن دیا کہ بی سی اقامتی اسکولوں کے بقایاجات جلد ہی جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے ریاستی وزیر پونم پربھاکر کی تجویز پر بی سی اقامتی اسکولوں کے لئے ذاتی عمارتوں کی تعمیر کا تیقن دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں اراضیات کی نشاندہی کی جائے گی۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت دو مراحل میں 180 طلبہ کو 18 کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت درخواستوں کے ادخال کی تاریخ میں 15 اکتوبر تک توسیع کی گئی ہے۔
