جہدکار دماغی نکسل اور اربن نکسل جیسے الزامات کی پرواہ نہ کریں: جسٹس اوکا

TOP_13-3

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے اوکا نے جہدکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے خلاف الزام تراشی سے متاثر ہوئے

بغیر ماحولیاتی تحفظ کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ جسٹس ابھئے اوکا نے ماحولیاتی جہدکاروں سے کہا کہ وہ دماغی نکسل، اینٹی نیشنل یا اربن نکسل جیسے الزامات کی پرواہ کئے بغیر متحدہ طور پر ماحولیاتی تحفظ اور خلاف ورزیوں کو آشکار کرنے کی مساعی جاری رکھیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج ممبئی کے ایک کالج میں جہدکاروں سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر مہم یا تحریک کے بجائے جہدکاروں کو متحدہ جدوجہد کرنی چاہئے تاکہ نوجوان ماحولیاتی جہدکار تیار کئے جاسکیں۔ ایک مقامی رضاکارانہ تنظیم کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام کا مقصد ایک صحتمند اور آلودگی سے پاک فضاء تیار کرنے کے لئے جہدکاروں کو ترغیب دی جاسکے۔ ایڈوکیٹ ساگر دیورے نے بتایا کہ اس پروگرام میں مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے جہدکاروں نے شرکت کی اور ماحولیات کی تباہی کو روکنے کے لئے جدوجہد کا عہد کیا۔ جسٹس ابھئے اوکا نے کہا کہ کوئی بھی ترقی کا مخالف نہیں ہے لیکن ترقی کا انحصار ماحولیات کی تباہی پر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو شہروں کی ترقی کے علاوہ ہائی ویز اور روڈ ڈیولپمنٹ پراجکٹس کو اسی وقت ترقی تصور کیا جاسکتا ہے جب ماحولیات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں ترقی غریبوں کو مکانات کی فراہمی، ہیلت کیئر، معیاری تعلیم اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ جسٹس اوکا نے سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کی مخالفت کی اور اسکول اور کالجس کی سطح پر شجر کاری کے حق میں شعور بیداری مہم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے سخت قوانین تیار کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آتش بازی اور بلند آواز سے میوزک کے نتیجہ میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ جسٹس اوکا نے شہری علاقوں میں شجر کاری کو لازمی قرار دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ شہری علاقوں میں ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت زیادہ ہے۔