تیل کی برآمدات ایران جنگ سے قبل کی سطح پر بحال

خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئیں، جبکہ برآمدی ممالک متبادل راستوں اور سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے کے طریقوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ ٹریڈ انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کے باوجود ستمبر کے آخری دنوں میں ایران کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر نہ صرف واپس آ گئیں بلکہ اس سطح سے تجاوز بھی کر گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے چار دنوں میں خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ کی اوسط سے بڑھ گئیں اور 1 کروڑ 95 لاکھ سے 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔ کپلر کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں 10 روز کے اندر خطے سے ایران کے علاوہ خام تیل کی یومیہ برآمدات کی سات روزہ اوسط میں 72 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ کپلر کی طرف سے کہا گیا، ”اب 40 فیصد تیل آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرتے ہوئے منتقل ہو رہا ہے اور اس آبنائے سے گزرنے والے زیادہ تر خام تیل کو سمندر میں دوسرے ٹینکرز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق زیادہ تر تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پائپ لائنوں کے ذریعہ منتقل ہوا۔
