جودھپور میں ہندو مسلم جھڑپ‘40افراد زیرحراست

راجستھان پولیس نے جودھپور میں تقریباً 40افراد کو جھڑپ کے دوران سنگباری اور توڑپھوڑ کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ عہدیداروں نے ہفتہ کے دن یہ بات بتائی۔ متاثرہ علاقہ پر جہاں فی الحال سکون ہے ڈرونس کے ذریعہ نظررکھی جارہی ہے۔ جمعہ کی رات جودھپور کے سرساگرعلاقہ میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ تشدد سے جڑے کیس میں تقریباً 200ملزمین کے خلاف معاملہ درج کیاگیا۔ ہفتہ کے دن سرساگر میں بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ جھڑپ معمولی مسئلہ پر ہوئی تھی۔ بعدازاں حالات بگڑگئے۔ سنگباری ہوئی اور ایک دکان اور ٹریکٹر کو آگ لگادی گئی۔ سینئر پولیس عہدیدار نشانت بھاردواج نے بتایاکہ جھگڑا2 دن قبل عیدگاہ میں دکانوں (ملگیوں) کی تعمیر کے مسئلہ پر شروع ہوا تھا۔ بعض لوگ‘ ملگیوں کی تعمیر کے خلاف تھے۔ اس مسئلہ پر دونوں فرقوں میں ٹکراؤ ہوگیا۔ تاہم پولیس نے مداخلت کرکے مسئلہ رفع دفع کردیاتھا۔ جمعہ کے دن ایک فرقہ کے لوگوں نے گیٹ کی تعمیر ہوتادیکھ کراحتجاج کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ تعمیر روک دی جائے۔ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے یہ بات نہیں مانی۔ بحث تکرارہوئی اور جھڑپ ہوگئی۔ جھڑپ 3گھنٹے جاری رہی۔ پولیس کو ایک بجے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس نے تشدد برپا کرنے والوں کو شناخت کرکے حراست میں لے لیا۔ ضلع انتظامیہ نے فوری ایک ایمبولنس‘ فائربریگیڈ اور مزید فورس وہاں بھیج دی۔ پولیس پٹرولنگ ہفتہ کی صبح بھی جاری رہی۔ پولیس کمشنر جودھپور راجندرسنگھ نے بتایاکہ سرساگر میں صورتحال اب قابو میں ہے۔ پولیس ٹیمیں علاقہ میں طلایہ گردی کررہی ہیں۔ ڈی سی پی آلوک سریواستو اور شردچودھری نے صورتحال پر نظررکھی ہے۔ ڈرونس کے ذریعہ بھی نگرانی جاری ہے۔
