لوک سبھا انتخابات کے بعد تلنگانہ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل، بی آر ایس کا وجودخطرہ میں؟

تلنگانہ کی سیاست دلچسپ موڑاختیار کرتی جا رہی ہے۔ پہلے ریاست میں کانگریس کا مقابلہ بی آر ایس سے ہوا کرتا تھا حالیہ پارلیمنٹ انتخابات کے بعد ریاست کا سیاسی منظرنامہ بدل گیا ہے اور اب کانگریس بمقابلہ بی جے پی اور ٹی ڈی پی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں کانگریس خاموشی سے اپنا ’آپریشن آکرش‘ چلا رہی ہے، وہیں بی جے پی اور ٹی ڈی پی اپنے مشترکہ ’آپریشن آکرش‘ کے شروع کرتے ہوئے کانگریس سے پیچھے نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تینوں جماعتیں بی آر ایس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس،بی آر ایس کے اراکین اسمبلی کو اپنی پارٹی میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور بی آر ایس اراکین اسمبلی کے ساتھ انفرادی طور پر معاملہ کر رہی ہے۔ بی آر ایس کے کچھ اراکین اسمبلی بھی اپنے طور پر کانگریس میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ کانگریس کے کچھ سرکردہ رہنما بھی بی آر ایس اراکین اسمبلی ے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ انہیں کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دے سکیں۔ کانگریس کی حکمت عملی یہ ہے کہ بی آر ایس ارکان اسمبلی کو مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کے بعد پارٹی کو کانگریس میں ضم کر دیا جائے۔ دوسری طرف بی جے پی نے بھی ٹی ڈی پی کی مدد سے اپنا ’آپریشن آکرش‘ شروع کیا ہے۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین کے بی آر ایس اراکین اسمبلی و کونسل کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں تاہم، ٹی ڈی پی قائدین کے کچھ بی آر ایس اراکین اسمبلی و کونسل کے ساتھ قریبی روابط ہیں کیونکہ وہ پہلے ٹی ڈی پی میں ان کے ساتھی رہے ہیں۔ بی جے پی،تلنگانہ کی سیاست میں دوسرے نمبر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور تلگودیشم تلنگانہ میں اپنے آپ کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جہاں تلنگانہ میں ٹی ڈی پی کا وجود تقریباً صفر ہے۔ اگرچہ کچھ بی آر ایس اراکین اسمبلی اب بھی ٹی ڈی پی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تاہم اس میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ بی جے پی اور ٹی ڈی پی کے مشترکہ آپریشن آکرش کا مقصد بی آر ایس اراکین اسمبلی کو کانگریس میں شامل ہونے سے روکنا اور انہیں بی جے پی یا ٹی ڈی پی میں شامل کرانا ہے۔ ٹی ڈی پی قائدین بی آر ایس اراکین اسمبلی کو بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں چونکہ بی آر ایس اراکین اسمبلی کو تلنگانہ ٹی ڈی پی پر اعتماد نہیں ہے اس لیے وہ بی آر ایس ایم ایل ایز کو یہ بتاتے ہوئے ذہن سازی کررہے ہیں کہ بی آر ایس دن بدن کمزور ہورہی ہے اور اس پارٹی میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں مضبوط ہو رہی ہے اورآئندہ اسمبلی انتخابات تک وہ کانگریس کو چیلنج کر سکتی ہے۔ کچھ بی آر ایس ایم ایل اے جو کاروبار میں ہیں، مرکزی تفتیشی ایجنسیوں جیسے ای ڈی، سی بی آئی اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے چھاپوں سے بچنے کے لیے بی جے پی کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے حال ہی میں بی آر ایس ایم ایل اے جی مہیپال ریڈی کے اداروں پر چھاپہ مارا تھا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی اس طرح کے چھاپوں کے ذریعے کاروبار چلانے والے بی آر ایس ایم ایل اے کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
