برطانیہ میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑی اُلٹ دی اور ایک بس کو نذر آتش کردیا

LONDON

برطانوی شہر لیڈز میں زور پکڑنے والے فسادات میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑی الٹ دی اور ایک ڈبل ڈیکر بس کو نذرِ آتش کر دیا۔ ملکی پریس کی خبروں کے مطابق یہ فسادات اس وقت چھڑے جب سوشل سروسز کے اہلکار ہیری ہلز کے علاقے میں شام کے وقت ایک خاندان کے بچوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔جمع ہونے والے ہجوم نے پولیس کی گاڑی کے شیشے و پرام، پتھروں اور سائیکلوں کی ضربوں سے توڑ تے ہوئے گاڑی کو الٹ دیا اور ایک ڈبل ڈیکر پبلک ٹرانسپورٹ بس کو آگ لگا دی۔ ویسٹ یارکشائر محکمہ پولیس کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے بڑھنے سے قبل پولیس اہلکاروں نے بچوں اور ادارے کے ملازمین کو بحفاظت علاقے سے نکال لیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے کو پولیس کی مزید نفری بھیج دی گئی ہے، کچھ سڑکوں کو آمدورفت کے لیے بند کر دی گیا ہے اور عوام کو علاقے سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے، فسادات میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ ویسٹ یارکشائر کی میئر ٹریسی بریبن نے بھی لیڈز میں افراتفری کو سماجی تناؤ کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرنے والوں سے ” ایک بار پھر سوچنے سمجھنے ” کی اپیل کی ہے۔