مہاراشٹر: شرد پوار نے کبھی نہیں سوچا ہوگا ایسا انجام، 84 کی عمر میں آخر کار مات کھاگئے ‘صاحب’!

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج تقریباً طے ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کی قیادت میں مہایوتی شاندار کامیابی حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔ وہ 288 رکنی اسمبلی میں وہ 200 سے زیادہ سیٹوں پر آگے ہے۔ چھ ماہ قبل لوک سبھا انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مہاوکاس اگھاڑی بری طرح ہارتی نظر آرہی ہے۔ لیکن اس الیکشن میں ایک بڑے لیڈر کو بدترین انجام کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ شرد پوار ہیں۔ ریاست کی سیاست کے چانکیہ کہے جانے والے شرد پوار گزشتہ پانچ دہائیوں سے مہاراشٹر کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔ نہ صرف ریاست بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے قد کے لیڈر بہت کم ہیں۔ وہ پانچ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں پہلی بار اتنی بری طرح ہارے ہیں۔ شرد پوار کی این سی پی مہاوکاس اگھاڑی کا حصہ ہے۔ انہوں نے 86 سیٹوں پر الیکشن لڑا۔ ان کی اتحادی کانگریس اور شیوسینا ادھو گروپ نے بالترتیب 102 اور 92 سیٹوں پر الیکشن لڑا ۔ لیکن اس میں سب سے بری شکست این سی پی شرد گروپ کو ملی ہے۔ یہ وہی این سی پی شرد گروپ ہے جس نے 80 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ لوک سبھا کی 10 میں سے آٹھ سیٹیں جیتی تھیں۔ اس بار اسے صرف 15 سیٹوں پر برتری حاصل ہے۔ وہیں کانگریس کو 20 سیٹوں پر برتری حاصل ہے اور شیوسینا ادھو گروپ کو 18 سیٹوں پر برتری حاصل ہے۔ دوسری طرف مہایوتی میں بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ 84 فیصد کے قریب نظر آرہا ہے۔ پارٹی نے 145 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے 125 پر برتری حاصل ہے۔ اسی طرح شیو سینا شندے گروپ کے 48 امیدوار ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 60 فیصد کے قریب ہے۔ این سی پی اجیت گروپ کے 37 امیدوار آگے ہیں۔ انہوں نے 59 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 62 فیصد ہے۔ بتادیں کہ تقریباً دو سال پہلے این سی پی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار نے بغاوت کر دی تھی۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ مہایوتی اتحاد سے ہاتھ ملالیا تھا۔ اس کے بعد شرد پوار عوام میں کافی جذباتی ہو کر گئے تھے۔ عوام نے انہیں لوک سبھا میں اس کا صلہ بھی دیا۔ لیکن عوام نے اسمبلی میں بتایا ہے کہ ریاست کی سیاست میں ان کے جانشین اجیت دادا ہی ہیں۔
