وزیر اعلیٰ نے کٹیہار ضلع میں چل رہے ترقیاتی منصوبوں کے تعلق سے جائزہ میٹنگ کی

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج پرگتی یاترا کے تیسرے مرحلے کے میںکٹیہار ضلع میں چل رہے ترقیاتی کاموں کے بارے میں کٹیہارانجینئر نگ کالج ہال میں جائزہ میٹنگ کی۔ جائزہ میٹنگ میں کٹیہار ضلع کے ڈی ایم منیش کمار مینا نے ضلع کے ترقیاتی کاموں کے تعلق سے پریزنٹیشن کے ذریعے تفصیلی جانکاری دی۔ ڈی ایم نے بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم، وزیراعلی نشچے سیلف ہیلپ الاؤنس اسکیم، ہنر مند یوتھ پروگرام، ہر گھر تک نل کا جل اور اس کی دیکھ ریکھ، ہر گھر تک پکی گلیاں اور نالیاں، وزیر اعلی دیہی سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم، آبپاشی کا پانی۔ ہر علاقہ میں زرعی فیڈر کی تعمیر، وزیر اعلیٰ زرعی بجلی کنکشن اسکیم، وزیر اعلیٰ ادیمی منصوبہ، خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی، ہیلتھ سب سنٹر میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے طبی مشاورت، ویٹرنری خدمات کی ڈور اسٹیپ ڈیلیوری اور تعمیر کی تازہ ترین صورتحال۔ پنچایت سرکار بھون۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی جانکاری دی۔ اس کے علاوہ ہر پنچایت میں 10+2 اسکول، گرام پنچایت، ٹاون پنچایت میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے اسپورٹس کلب کی تشکیل، ہر پنچایت میں کھیل کا میدان، وزیر اعلیٰ گرام سمپرک منصوبہ (بقیہ)، وزیر اعلیٰ دیہی پل اسکیم، شہری اور دیہی علاقوں میں سیلف ہیلپ گروپس کی تشکیل، ریونیو ایڈمنسٹریشن میں شفافیت، فائلنگ، داخل،خارج، عوامی کنوؤں، تالابوں اور جل۔ جیون۔ ہریالی کے تحت تزئین و آرائش کی تازہ ترین صورتحال۔ وزیراعلیٰ کوڈی ایم نے تفصیلی معلومات دیں۔ جائزہ میٹنگ میں عوامی نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل بھی وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کئے۔جائزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں آپ تمام لوگوں کا اس میٹنگ میں خیر مقدم کر تا ہوں کٹیہا کے ڈی ایم مسٹر منیش کمار مینا نے ضلع میں چل رہے ترقیاتی کاموں کی جانکاری دی ہے۔ میں ان کا شکریہ ادا کر تا ہوں ۔یہاں موجود عوامی نمائندوں نے بھی اپنی اپنی باتیں رکھی ہیں ۔ آج ہم نے کئی مقامات پر جاکر ترقیاتی کاموں کو دیکھا ہے ۔ ہم حکام سے کہیں گہ کہ یہاں جو بھی ضرورتیں ہیں ان کو ذہن میںرکھتے ہوئے آگے کی کارروائی یقینی بنائیں ۔ پرگتی یاتراکے دوران جن اضلاع کا دورہ کیا گیا ہے اور اس دوران جو اعلانات کیے گئے ہیں ان سب کو کابینہ میں پاس کرایا گیا۔ ہمارا مقصد ہے کہ ہر طرح سے بہار کی ترقی ہو۔سال 2005 کے بعد ہم لوکوں نے بہار میں ترقیات کے جو کام کرائے ہیں اسے یاد رکھیے گا ۔ ہم شروع سے ہی پورے بہار کا دورہ وقتافوقتا کر تے رہے ہیں ۔ ہر علاقہ میں ترقیات کے کام کرائے گیے ہیں ۔ آپ لوگ اسے بھولیے گا مت۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 24نومبر 2005سے ہم لوگوں نے بہار میں ترقیاتی کام کر نا شروع کیا اس وقت سے مسلسل ہم لوگ بہار کو آگے بڑھا نے میں لگے ہیں ۔ 2005سے سے پہلے بہار کی کیا حالت تھی۔ آپ تمام لوگ اس سے واقف ہیں۔ لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہو تے تھے ،جسے ہم نے ختم کیا ۔ اسپتالوںمیں علاج کا انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں خستہ حال تھیں تعلیم کی صورت حال بہتر نہیں تھی سڑکوں کی بہت کمی تھی اسپتالوں میں مریضوں کو دوائیں نہیں ملتی تھیں ۔، جب ہم ممبر پارلیمنٹ اور مرکز میں وزیر تھے تو تو سڑکوں کی حالت خراب ہو نے کے سبب مجھے اپنے حلقہ میں بہت پیدل چلنا پڑتا تھا ۔جب بہار کے لوگوں نے ہم لوگوں کو کام کر نے کا موقع دیا،اس وقت سے بہار کی حالت بد لی ہے ہر شعبہ میں ترقیاتی کام کیے گئے ہیں ۔ بہار میں اب ڈر اور خوف کا ماحول ختم ہو گیا ہے ۔ امن اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ۔بہار میں پہلے بجلی کی حالت بہت خراب تھی ۔دیہی علاقوں میں بجلی نہ کے برابر رہتی تھی۔ راجدھانی پٹنہ میں بھی 8 گھنٹے سے زیادہ بجلی کی سپلائی نہیں ہو پاتی تھی۔سال 2006 سے ہم نے قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی۔ اب تک 8 ہزار سے زائد قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جاچکی ہے 1273مزید قبرستانوں کو نشانزد کیا گیا ہے ۔ جس میں سے 746قبرستانوں کی گھیرا بندی کرا دی گئی ہے اور باقی بچے قبرستانوں کی گھیرا بندی کا کام بھی کرا یا جارہا ہے ۔ہم لوگوں نے دیکھا کہ مندروں سے مورتی چوری کے واقعات ہو رہے تھے اس کے پیش نظر مندروں کی چہاردیواری کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تاکہ مندروں میں چوری کی وارداتیں رونما نہ ہوں۔ ہم لوگوں نے کوئی کام نہیں چھوڑا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پورے بہار میں ترقیاتی کام ہم لوگ کرارہے ہیں بہار کا کوئی بھی علاقہ ترقی سے اچھوتا نہیں ہے ۔ ہم لوگوں نے تعلیم، صحت، سڑکوں اور پلوں پلیوں کی تعمیر کا کام بڑے پیمانے پر کیا ہے، جس کی وجہ سے پہلے لوگ بہار کے کسی بھی کونے سے 6 گھنٹے میں پٹنہ پہنچ جاتے تھے، اب اسے گھٹا کر 5 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ہر طرح کے کام کیے جارہے ہیں۔ بہار میں بڑے پیمانے پر کانٹریکٹ اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کر کے تعلیمی میدان کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کثیر تعداد میں سرکاری ٹیچروں کی بحالی کی جارہی ہے،اس کے ساتھ ہی کانٹریکٹ ٹیچروں کو امتحان کے ذریعے سرکاری منظوری دی جا رہی ہے۔مدرسوں کو بھی حکومت سے منظوری دی گئی اور وہاں پڑھانے والے اساتذہ کو سرکاری ٹیچروں کے مساوی تنخواہ دی جارہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ2005سے پہلے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ایک ماہ میں صرف 39 مریض علاج کے لیے جاتے تھے۔ہم لوگوں نے مفت دوا اور علاج کی سہولت مہیا کرائی جس کے سبب اب اوسطاً ایک ماہ میں 11 ہزار سے زائد مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ پہلے بہار میں صرف 6 سرکاری میڈیکل کالج تھے۔ اب ان کی تعداد بڑھ کر 12ہو گئی ہے۔بہار کا سب سے قدیم اسپتال پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (پی ایم سی ایچ) کو 5400 بستروں کی گنجائش والابنایا جا رہا ہے۔ باقی 5 پرانے میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں کی بھی توسیع کر کے 2500 بیڈ کی صلاحیت کا اسپتال بنا یا جارہا ہے۔ ہم لوگوں نے آئی جی آئی ایم ایس پٹنہ کی توسیع کر کے اسے 3000 بیڈ کی صلاحیت کے قابل کرارہے ہیں۔ 2015 سے، سات نشچے یوجنا کے ذریعے، ہر گھر میں نل کا پانی، ہر گھر میں اجابت خانہ کی تعمیر، ہر گھر تک پکی گلیوں اور نالیوں کی تعمیر، ہر ٹولے تک پکی سڑکوں کی تعمیر،ہر گھر تک بجلی کا کنکشن جیسی بنیادی سہولیات لوگوں کو گھر پہنچا دی گئی ہے۔ جو بھی نئی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں، ان میں بھی یہ سہولیات مہیا کرائی جارہی ہے ۔ کھلے میں رفع حاجت کی وجہ سے لوگ بہت سی بیماریوں کا شکار ہوئے جن کے گھروں میں بیت الخلاء بنانے کی جگہ نہیں تھی۔ان کے لیے عوامی اجابت خانہ کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔ سال 2020 سے سات نشچے 2 کے تحت وزیر اعلیٰ دیہی سولر اسٹریٹ لائٹ منصوبہ ، ٹیلی میڈیسن منصوبہ ، بال ہردیے منصوبہ ، ہر کھیت تک آبپاشی کا پانی وغیرہ کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2006سے پنچایتی راج اداروں اور 2007 سے میونسپل باڈیز میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا ،جس کے تحت اب تک 4 انتخابات ہو چکے ہیں۔ خواتین کی بڑی تعداد منتخب ہو کر آئی ہے۔ پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپ کی تعداد بہت کم تھی۔ جب بہار میں ہم لوگوں کی حکومت بنی تو ہم لوگوں نے سال 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بڑھانے کا کام شروع کیا۔ اب بہار میں سیلف ہیلپ گروپ کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 61 ہزار ہو گئی ہے جن کے ساتھ 1 کروڑ 31 لاکھ جیویکا دیدی وابستہ ہیں۔ ہم نے سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ خواتین کا نام جیویکا دیدی رکھا ہے،جس سے متاثر ہو کر اس وقت کی مرکزی حکومت نے بھی اسے اپنایا اور اس کا نام ‘آجیویکا’ رکھا۔ ہم لوگوں نے اب بہار کے شہری علاقوں میں سیلف ہیلپ گروپس کی تشکیل بھی شروع کر دیا ہے۔ اب شہری علاقوں میں34ہزار سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل ہو چکی ہے ،جن سے 3لاکھ 80ہزار جیویکا دیدیاں منسلک ہو چکی ہیں ۔ ہم لوگوں نے سال2013 میں پولیس کی بحالی میں خواتین کو 35فیصد ریزر ویشن دیا ،جس کا نتیجہ ہے کہ بہار پولیس فورس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے ۔ بہار پولیس میں جتنی خواتین ہیں ، ملک کی کسی بھی ریاست کی پولیس میں خواتین کی تعداد اتنی نہیں ہیں ۔ سال 2016 ہم لوگوںنے تمام سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو 35فیصد ریزر ویشن دیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات نشچے منصوبہ کے تحت ہم لوگوں نے 10 لاکھ لوگوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا ہدف رکھا تھا، جسے بڑھا کر 12 لاکھ کر دیا گیا ہے۔ اب تک 9 لاکھ لوگوں کو سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اب تک 24 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ سال 2025 میں متعینہ نشانہ کے مطابق 12 لاکھ لوگوں کو سرکاری نوکریاں اور 34 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ ہم لوگوںنے تمام طبقات کی بہتری کے لیے کام کیا ہے۔ ہم لوگوں نے تمام پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کی اور بہار میں ذات کی بنیاد پر شماری کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد بہار میں ذات کی بنیاد پر شماری کرائی گئی جس میں 94 لاکھ غریب خاندانوں کی نشاندہی کی گئی، جن کا تعلق ہر ذات اور مذہب سے ہے۔ ایسے غریب خاندانوں کو فی خاندان 2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی روزی کما سکیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ کٹیہار ضلع میںکئی طرح کے ترقیاتی کام کیے گئے ہیں۔ یہاں انجینئرنگ کالج، پارا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور ہاسٹل کی تعمیر کرائی گئی ہے ،ساتھ ہی سرکاری پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ، لیڈی آئی ٹی آئی ،تمام ڈویزن میں آئی ٹی آئی ، جی این ایم انسٹی ٹیوٹ، سڑکیں اور پل پلیوں تعمیر کا کام کرایا گیا ہے ۔ کٹیہار صدر اسپتال کو 300بیڈکا اسپتال بنا یا گیا ہے ۔ کٹیہار میں پرائیویٹ میڈیکل کالج بھی اچھاکام کررہا ہے ۔ یہاں جن نائیک کرپور ٹھاکر اتنہائی پسماندہ طبقہ ہاسٹل تعمیرکرا یا گیا ہے ۔ ایس سی ،ایس ٹی رہائشی اسکول تعمیر کرا یا گیا ہے ۔2017 کے سیلاب میں منہدم ہوئے پلوں کو دوبارہ تعمیرکرایا گیا ہے ۔ کوڑھا روڈ کو چوڑا کیا گیا ہے ۔ کٹیہار ،نارائن پور ، پورنیہ فورلین روڈ کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔ گنگا ندی پر منیہاری سے صاحب گنج روڈ کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔ اس سے ریاست جھارکھنڈ سے آمدورفت آسان ہو جائے گی ۔ کٹیہار ضلع کے شہری علاقوں میں پانی جمائوکے مسائل کے حل کے لیے کام کرائے جارہے ہیں ۔ پانی کی نکاسی کے لیے بڑے بڑے نالوں کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔ مہا نندا ندی کے دونوں پشتوں ،کوسی نہر پرنانی اور گنگا ندی کے بائیں پشتہ پر سیلاب کے دوران جو منہدم ہو گیا تھا اسے ٹھیک کرا یا جارہا ہے ۔ سال 2017 میں آئے سیلاب کے دوران 20لاکھ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی تھی ، 144 راحت کیمپ لگا کر آفات راحت کے کام کیے گئے تھے ۔ ہم نے اس دوران کٹیہار میں آکر ایک ایک چیز کا جائزہ لیا تھا اور لوگوں کو آفات سے راحت دلانے کے لیے کئی قدم اٹھائے گئے تھے ۔یہاں پنچایت سرکار بھون کی تعمیر کرائی جاچکی ہے اور باقی 185 کی تعمیر بھی جلد ہی کرا لی جائے گی ۔13بجلی سب اسٹیشن اور21 پاور سب اسٹیشن کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔40 ڈیڈیکیٹیڈ ایگریکلچر فیڈ تعمیر کرایا گیا ہے ،جس سے کسانوں کو 15ہزار618 بجلی کنکشن مہیا کرائے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو زراعت کے کام میں سہولت ہو ۔ 35ہزار 746 سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جس سے 4لاکھ38 ہزار جیویکا دیدیاں منسلک ہیں ۔6 جیویکا دیدی کی رسوئی کی تعمیر کرائی گئی ہے
