کے ٹی آر کی فارم ہاؤز میں کے سی آر سے ملاقات ، کونسل کی 3 نشستوں کے چناؤ پر تبادلہ خیال

تلنگانہ قانون ساز کونسل کی 3 نشستوں پر انتخابات کیلئے شیڈول کی اجرائی کے بعد سیاسی جماعتوں میں سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ بی جے پی نے پہلے ہی اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے امیدواروں کی فہرست پارٹی ہائی کمان کو منظوری کیلئے روانہ کردی گئی ہے۔ بی آر ایس پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے پارٹی کے صدر و سابق چیف منسٹر کے سی آر سے فارم ہاؤز پہنچ کر ملاقات کی۔ ٹیچرس کوٹہ کی 2 اور گریجویٹ کوٹہ کی ایک نشست کے چناؤ ، ایس سی زمرہ بندی اور مقامی انتخابات کے علاوہ دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ میدک، کریم نگر، نظام آباد، عادل آباد، ورنگل، کھمم، نلگنڈہ ٹیچرس کوٹہ کے حلقوں کے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارنے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ پارٹی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ان دو حلقوں کیلئے پارٹی راست طور پر اپنے امیدواروں کا اعلان کرے یا کسی کی تائید کرے، اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ کسی کی بھی تائید نہ کرتے ہوئے انتخابات سے دُوری اختیار کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ تمام جماعتوں کے امیدواروں کی فہرست منظر عام پر آنے کے بعد ہی اس پر قطعی فیصلہ کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔ گریجویٹ کوٹہ حلقہ میدک ، کریم نگر ، نظام آباد، عادل آباد سے پارٹی کے کس امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے ، کونسے امیدوار طاقتور ہیں، اور پارٹی میں کتنے لوگ دعویدار ہیں ، اس کا بھی جائزہ لیا ۔ کے ٹی آر نے پارٹی صدر کے سی آر کو بتایا کہ اس حلقہ کیلئے کئی قائدین دعویدار ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ آئندہ دو دن میں اس تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر ایم آر پی ایس کی جانب سے 7 فروری کو ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس پر بی آر ایس کا کیا موقف ہوگا ، اس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں ایس سی زمرہ بندی کی تائید میں قرارداد منظور کی تھی ، یہی ہماری پارٹی کا موقف ہے۔ بی آر ایس پارٹی ایس سی زمرہ بندی کی مکمل تائید کرے گی۔ مقامی اداروں کے انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ۔
