ڈیٹیکٹیو انسپکٹر عابڈس پر جہیز ہراسانی کے الزامات

n6511995751739055409809bf38d705cbbfe3b65996c389ed5ff70de374621c89cd10d31f509393c07ac65e

رشوت خوری ، لینڈ گرابرس سے سازباز سیول معاملات اور ناجائز تعلقات کے بعد محکمہ پولیس میں جہیز ہراسانی کے معاملات بھی منظر عام پر آنے لگے ہیں ۔ میڑچل میں شادی کے نام پر لڑکی کا جنسی استحصال کرنے واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ عابڈس پولیس کے انسپکٹر کی مبینہ جہیز ہراسانی کا تازہ واقعہ منظر عام پر آیا ۔ عابڈس پولیس میں بہ حیثیت ڈی آئی برسر خدمت انسپکٹر نرسمہا کے خلاف بیوی نے کمشنر پولیس سے شکایت کی اور ڈی آئی پر جہیز ہراسانی کے الزامات عائد کئے ۔ لڑکی کی پیدائش پر سونا اور رقم کیلئے دباؤ ڈالنے اور دوسری شادی دکی دھمکیاں ‘ زائد جہیز کیلئے ہراسانی کے سندھیا نے الزامات لگائے ۔ آج ڈی آئی کی کارستانیوں کو منظر عام پر لاکر سندھیا نے پولیس پر عدم کارروائی اور ساتھی آفیسر کو بچانے کا الزام عائد کیا ۔ سندھیا کے مطابق ان کی شادی 2012 میں ہوئی اور انکے دو بچے ہیں ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی سے خاتون کو ہراسانی کا سامنا رہا ۔ زائد جہیز کیلئے شوہر نے اذیت پہونچانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ بچی کو ساتھ لیجانے پر اغوا کا الزام لگایا ۔ سندھیا نے کہا کہ پولیس نے اسکے شوہر کی بھر پور مدد کی ۔ نلگنڈہ ویمن پولیس اسٹیشن اور گولی گورارم پولیس اسٹیشن میں بھی شکایت درج کروائی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ حیدرآباد میں خدمات کے پیش نظر سندھیا نے کمشنر پولیس سے شکایت کی ۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی نرسمہا نے وضاحت کی اور کہا کہ ان کا بیوی سے تنازعہ چل رہا ہے اور اس نے طلاق کیلئے مسئلہ کو عدالت سے رجوع کیا اور مقدمہ زیر دوراں ہے ۔