تلنگانہ رائزنگ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ 4 کروڑ عوام کا خواب : ریونت ریڈی

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ رائزنگ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ 4 کروڑ تلنگانہ عوام کا خواب ہے۔ کیرالا کے تھروننتا پورم میں ملیالم روز نامہ ‘ ماتروبھومی’ کی جانب سے منعقدہ انٹر نیشنل فیسٹول سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے تلنگانہ کی ترقی کا ایجنڈہ پیش کیا اور فلاحی اسکیمات میں حکومت کے نشانہ کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی معیشت کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے جو فی الوقت 200 بلین ڈالر ہے۔ بی آر ایس دور حکومت کے دس برسوں کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی اور حکومت عوام کی توقعات پر پوری اُتر نہ سکی۔ حیدرآباد کو عالمی شہر کے طور پر ترقی دینے کے منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد کا مقابلہ ممبئی یا دہلی سے نہیں ہے بلکہ نیویارک، لندن، سنگاپور اور ٹوکیو کی طرز پر ترقی کی مساعی کی جارہی ہے۔ 30 ہزار ایکر اراضی پر فیوچر سٹی قائم کی جارہی ہے جو ہندوستان کی کلین’ گرین اور بیسٹ سٹی شمار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیوچر سٹی ملک کی پہلی نیٹ زیرو سٹی رہے گی جہاں آرٹیفیشل انٹلیجنس، کلین اِنرجی اور مستحکم شہری ترقی اہم ترجیحات رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ایک ٹریلین ڈالر معیشت میں تبدیلی سے یہ ملک کیلئے اثاثہ ثابت ہوگا۔ تلنگانہ کو حیدرآباد کور اربن، سیمی اربن اور رورل زونس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 160 کلو میٹر پر محیط آوٹر رنگ روڈ خالص شہری علاقہ کے تحت ہے جہاں 1.2 کروڑ آبادی بستی ہے اس علاقہ میں سافٹ ویر اور فارما شعبہ جات قائم کئے جائیں گے۔ حیدرآباد کی پہچان میں چارمینار، بریانی اور موتی ( پیرلس) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے حکومت نے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ ڈاؤس کے دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ 1.82 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے گئے جبکہ گذشتہ سال 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے تھے۔ موسی ریور ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے ذریعہ موسیٰ ندی کی عظمت رفتہ بحال کی جائے گی۔ گوداوری کا پانی موسیٰ ندی میں منتقل کرتے ہوئے صاف و شفاف پانی کے بہاؤ کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے شہر اور اطراف کے مختلف پراجکٹس کا حوالہ دیا جن میں ریجنل رنگ روڈ اور ریڈئیل روڈز کی تعمیر شامل ہے۔ تلنگانہ میں الیکٹرانک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور مرحلہ وار طور پر 3000 آر ٹی سی بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی کی سربراہی کے علاوہ فی ایکر 12 ہزار روپئے امداد دی جارہی ہے۔ بے زمین زرعی مزدوروں کو سالانہ 12 ہزار روپئے کی امدادی اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ فصلوں پر اقل ترین امدادی قیمت کے علاوہ فی کنٹل 500 روپئے بونس دیا جائے گا۔ کسانوں کو 2 لاکھ روپئے تک کی قرض معافی میں تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں 25 لاکھ کسانوں کا 21 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں ، خواتین ، نوجوانوں اور ہر زمرہ کی ترقی حکومت کی ترجیحات ہیں۔ راجیو آروگیہ شری کے تحت 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج کیا جارہا ہے۔ پسماندہ طبقات کو ہاسٹلس میں میس اور کاسمیٹک چارجس میں اضافہ کیا گیا۔ عالمی معیار کے ینگ انڈیا اقامتی اسکولس کامپلکس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ غریبوں کو 200 یونٹ مفت برقی اور 500 روپئے میں گیس سلینڈر سربراہ کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اندراماں ہاوزنگ اسکیم کے تحت مکان کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ ہر سال 4 لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور پانچ برسوں میں20 لاکھ مکانات غریب خاندانوں کو فراہم کئے جائیں گے۔ سماجی انصاف کے تحت دلت، بی سی، قبائیل اور اقلیتوں کے ساتھ انصاف کیلئے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے معاشی سروے کے مطابق عوام کی انفرادی آمدنی میں تلنگانہ سرفہرست ہے۔
