سنجے نروپم کے ہاؤزنگ جہاد بیان پر تنازعہ

مہاراشٹرا اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے 22 فروری کو شیوسینا لیڈر سنجے نروپم کی جانب سے ‘ہاؤسنگ جہاد’ کے بارے میں بیان پرشدید تنقید کی اور کہا کہ انہیں ایکناتھ شندے پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹرا حکومت یہاں اس طرح کی اجازت نہیں دے گی۔ سنجے نروپم کے ذہن میں کچھ بھی ہو، مہاراشٹرا حکومت یہاں ایسی کسی کوشش کی اجازت نہیں دے گی۔ انہیں ایکناتھ شندے پر اعتماد ظاہر کرنا چاہئے کیونکہ وہ اربن ڈیولپمنٹ کے وزیر ہیں۔ پیارے خاں نے کہا کہ اب مسلمانوں کے خلاف ایک ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے کہ ان کے خلاف بولنے سے آپ بڑے لیڈر بن جائیں گے۔ یہ یہاں نہیں ہونے والا ہے۔ لیڈر بننے کے لیے آپ کو بڑے کام کرنا اور ان کے جیسا بننا ہوگا جو محنت سے لیڈر بنتے ہیں۔ یہ بیانات دے کر کوئی لیڈر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا حکومت ‘سب کا ساتھ سب کا وکاس’ کے تحت کام کرتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شیو سینا کے رہنما سنجے نروپم نے 21 فروری کو بیان دیا تھا کہ مسلم بلڈرز ممبئی میں ایس آر اے (سلم ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی) کے پراجکٹس میں ہندو درخواست گزاروں کو مسترد کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو زیادہ موقع دیا جارہا ہے لہذا سنجے نروپن نے اسے ‘ہاؤسنگ جہاد’ قرار دیا ہے۔ان کے اس بیان کے بعد تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔آجکل زعفرانی تنظیموں کے قائدین نے یہ فیشن ہوگیا ہے کہ مسلمانوں سے منسوب ہر بات کو جہاد سے جوڑ دیا جائے۔مہاراشٹرا میں لوجہاد کے خلاف قانون سازی کی تک تیاری کی جارہی ہے۔
