رنگوں پر اعتراض کرنے والے ہولی کے روزگھروں میں ہی رہیں: سنبھل پولیس

n655038859174138091098242a2dc99e47759b7a0f4cd0a33c05a352ba649b35c4290aadd0e24a761c55464

یوپی کے سنبھل میں تعینات ایک پولیس افسر کے جمعہ اور ہولی سے متعلق کئے گئے متنازعہ تبصروں کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دیکھی گی جبکہ سیکولر عوام کی جانب سے افسر پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ پولیس افسر نے تبصرہ کیا کہ جن لوگوں کو ہولی کے رنگوں سے اعتراض ہیں، انہیں ہولی کے دن اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہئے۔ انہیں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہولی کا تہوار سال میں صرف ایک بار آتا ہے اور جمعہ کی نماز سال میں 52 بار ادا کی جاتی ہے۔ اس سال ہولی کا تہوار ماہ رمضان المبارک کے دوران جمعہ کے روز آرہا ہے۔ اس پس منظر میں پولیس اسٹیشن میں امن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ سرکل آفیسر انوج چودھری نے کہاکہ ‘جو لوگ رنگوں پر اعتراض کرتے ہیں انہیں ہولی کے موقع پر اپنے گھروں تک رہنا چاہئے۔ محدود رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس دن باہر آنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ وسیع تر تناظر میں سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 52 جمعہ ہوتے ہیں لیکن ہولی کا تہوار سال میں صرف ایک بار آتا ہے۔ دونوں برادریوں کو مذہبی ہم آہنگی سے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تہواروں کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہندو بھی ہولی کا اتنا ہی انتظار کرتے ہیں جتنا مسلمان عید کا انتظار کرتے ہیں۔سی او انوج چودھری کے تبصرے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان شرویندر بکرم سنگھ نے کہا کہ پولیس کو بی جے پی کے ایجنٹوں کی طرح بات نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افسران وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی توجہ مبذول کرنے کے لیے جوش میں اس طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار خواہ کسی بھی مذہب کا ہو اسے سیکولر ہونا چاہیے اور تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے۔