غریب اور متوسط طبقات کیلئے ملک کی بیشتر ریاستوں میں علاج مہنگا

ہندوستان میں بڑھتی مہنگائی نے ایک طرف عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے تو دوسری طرف غریب اور متوسط طبقات کے لئے علاج بھی آسان نہیں۔ سرکاری اور خانگی دونوں شعبہ جات میں علاج مہنگا ہوچکا ہے اور بعض ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں علاج کے اخراجات دیگر ریاستوں کے مقابلے بہت زیادہ ہیں۔ ماہرین نے ملک کے اہم شہروں میں علاج کے مصارف کے سلسلہ میں ایک سروے کیا جس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ عام آدمی کے لئے ہاسپٹل کے اخراجات دن بہ دن استطاعت سے باہر ہوچکے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں مریض کے ہاسپٹل میں شریک ہونے کی صورت میں کم سے کم اخراجات 40 ہزار روپے درج کئے گئے۔ علاج کے مصارف میں دن بہ دن اضافے کے نتیجہ میں عوام ہیلت انشورنس اور علاج کے سلسلہ میں معاشی طور پر تیاریوں کے لئے مجبور ہیں۔ ہیلت انشورنس کمپنیوں نے بھی موجودہ صورتحال میں شرائط کو سخت کردیا ہے اور محدود طور پر علاج کے اخراجات کا انشورنس کے تحت کوریج دیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک طرف امراض میں اضافہ تو دوسری طرف خانگی اور کارپوریٹ شعبہ کے ہاسپٹلس کی تعداد میں اضافے نے بھی عوام کے میڈیکل مصارف کو مہنگا بنادیا ہے۔ ہاسپٹلائزیشن کی صورت میں چندی گڑھ میں مجموعی اخراجات 67 ہزار سے زائد درج کئے گئے جبکہ تلنگانہ میں اقل ترین طبی اخراجات 46316 اور ٹاملناڈو میں 44535 روپے درج کئے گئے۔ بہار، جھارکھنڈ، گجرات، مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں بھی عام آدمی کے لئے ہاسپٹل میں شریک ہوکر علاج کرانا مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سطح پر ملازمین اور پنشنرس کے لئے مختلف ریاستوں کی حکومتوں نے کیاش لیس علاج کی سہولت فراہم کی ہے اور حکومتوں کی سطح پر ہیلت کارڈس جاری کئے جارہے ہیں۔
