این آئی اے نے ریاسی اور راجوری میں تلاشی کے دوران اہم معلومات حاصل کی

n63280915917275021915216e444f8a92a743183e4bd1e14c03dbab7f400a83f87ee5723a14b9789a8ff5b8

قومی تحقیقاتی ایجنسی نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر کے راجوری اور ریاسی اضلاع میں متعدد مقامات پر تلاشی کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائی جون میں شیو کھوری مندر سے واپس آنے والے یاتریوں کی بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کا حصہ تھی۔ این آئی اے کے مطابق، ریاسی اور راجوری اضلاع کے سات مختلف مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی لی گئی۔ یہ مقدمہ جون میں نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی نے مقامی پولیس سے اپنے ذمہ لیا تھا۔ تلاشی کے دوران دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے درمیان روابط کو ظاہر کرنے والا مواد قبضے میں لیا گیا، جس کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، تلاشی لی جانے والی جگہوں میں ‘ہائبرڈ دہشت گردوں’ اور او جی ِڈبلیو کی رہائش گاہیں شامل تھیں، جن کا تعلق علاقے میں مقیم دہشت گردوں سے تھا۔ یہ دہشت گرد گرفتار شدہ ملزم حاکم خان عرف حاکم دین کی مدد سے یہاں پناہ لیتے رہے۔ حاکم نے دہشت گردوں نے کھانا اور ٹھکانہ فراہم کیا تھا۔ این آئی اے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ او جی ڈبلیو نے بھی دہشت گردوں کو پناہ، خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کیں۔ یہ حملہ 9 جون کی شام کو پاکستان کی حمایت یافتہ سازش کے تحت کیا گیا تھا تاکہ جموں و کشمیر میں بدامنی پیدا کی جا سکے اور بھارت کے امن و استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں شیومندری سے کٹرا واپس آنے والی یاتریوں کی بس ایک گہری کھائی میں گر گئی تھی، جس میں ایک بچّے سمیت نو یاتری جاں بحق ہوئے تھے ۔