بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے ‘اسکان ‘ پر پابندی سے متعلق سنایا بڑا فیصلہ

بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے جمعرات کو ملک میں اسکان کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے سے انکار کردیا۔ قبل ازیں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ازخود نوٹس لے اور بنگلہ دیش میں اسکون کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا حکم صادر کرے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ حکومتی حکام نے اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ڈیلی سٹار نے اس حوالے سے خبر دی ہے۔ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے وکیل محمد منیر الدین نے بدھ کے روز ہائی کورٹ کے بینچ کے سامنے انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانسینس (ISKCON) کے بارے میں کچھ اخباری رپورٹس پیش کیں اور عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں از خود نوٹس لے اور حکومت کو تنظیم پر پابندی لگانے اور چٹاگانگ، رنگ پور اور دیناج پور میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی ہدایت دے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ اسکون کی حالیہ سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کریں۔ اٹارنی جنرل کے دفتر نے یہ معلومات ہائی کورٹ میں جسٹس فرح محبوب اور جسٹس دیباشیش رائے چودھری کی بنچ کے سامنے رکھی جب جمعرات کو کارروائی شروع ہوئی۔ ‘ڈیلی سٹار’ کے مطابق، بنچ نے امید ظاہر کی کہ حکومت کو امن و امان کی صورتحال اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایڈیشنل اٹارنی جنرل انیک آر۔ حق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد اسد الدین نے ہائی کورٹ بنچ کو بتایا کہ وکیل سیف الاسلام الف کے قتل اور اسکون کی سرگرمیوں کے سلسلے میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں 33 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
