سیما حیدر کے پاکستانی شوہر کی ایس جے شنکر سے جذباتی اپیل، کیا اب مراد ہوگی پوری؟

1737233701166

یو اے ای سے ہوتے ہوئے نیپال کے راستے ہندوستان میں داخل ہونے والی پاکستانی خاتون سیما حیدر ایک بار پھر خبروں میں آگئی ہیں۔ اس بار وہ اپنے پاکستانی شوہر غلام حیدر کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ غلام حیدر نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ جے شنکر سے انصاف دلانے کی فریاد کی ہے۔ غلام حیدر نے جے شنکر سے فریاد کی ہے کہ وہ انہیں اپنے بچوں سے ملوا دیں ۔ سیما حیدر اپنے بچوں کے ساتھ ہندوستان آئی تھیں۔ سیما کو پولیس نے گرفتار بھی کیا تھا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ وہ بغیر کسی درست دستاویزات کے اپنے PUBG دوست سچن سے ملنے کیلئے ہندوستان میں داخل ہوگئی تھی۔ فی الحال وہ گریٹر نوئیڈا میں سچن مینا کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے سچن سے شادی کرلی ہے۔ سیما حیدر 2023 میں اپنے چار بچوں کے ساتھ اپنے عاشق کے ساتھ رہنے کے لیے ہندوستان آئی تھیں۔ اب اس کے پاکستانی شوہر غلام حیدر نے ہندوستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بچوں سے ملوانے اور ان کی تحویل دلانے میں ان کی مدد کرے۔ بتادیں کہ سیما حیدر پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد کی رہنے والی ہیں۔ سیما کے پہلے شوہر غلام حیدر نے ایک حالیہ ویڈیو پیغام میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔ ویڈیو پیغام میں غلام حیدر نے دعویٰ کیا کہ ان کا کیس گزشتہ ایک سال سے عدالت میں زیرسماعت ہے۔ وہ سال 2023 سے اپنے بچوں کو نہیں دیکھ سکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے انصاف دلانے کی اپیل کرتا ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیما زبردستی اپنے بچوں کے نام اور مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر غلام حیدر کی یہ خواہش پوری کرتے ہیں یا نہیں؟ غلام حیدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کے ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی مدد سے 2023 کے آخر سے اپنے بچوں کی تحویل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں برنی نے تصدیق کی تھی کہ حیدر نے ان سے مدد کے لیے رابطہ کیا تھا اور ہندوستانی عدالتوں میں قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایک ہندوستانی وکیل کی خدمات حاصل کی تھیں۔ تاہم یہ معاملہ فی الحال زیر التوا ہے۔ غلام حیدر نے مزید کہا کہ انہوں نے ایک ہندوستانی وکیل (علی مومن) کو مقرر کیا ہے اور ہندوستانی عدالتوں میں قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے پاور آف اٹارنی بھی بھیج دیا ہے۔