طب ، تعلیم ، سائنس و ٹکنالوجی اور ڈیفنس کے شعبوں میں ایران کی مثالی ترقی

ہندوستان اور ایران خاص طور پر ایران اور حیدرآباد دکن کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور گذرتے وقت کے ساتھ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوتے جارہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت اور عوام کی یہی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہوں ۔ جہاں تک حیدرآباد کا سوال ہے حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی تہذیب و ثقافت یہاں کی فن شاہکار کی تاریخی عمارتوں میں ایرانی تہذیب و تمدن کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار عزت مآب مہدی شاہ رخی ایران قونصل جنرل حیدرآباد نے اسلامی جمہوریہ ایران کی 46 ویں یوم آزادی کے موقع پر ہوٹل ٹریڈینٹ ہائی ٹیک سٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا ۔ جس میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ایم ایل سی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پر علماء و مشائخین و ذاکرین اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیتیں بھی موجود تھیں ۔ اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے عزت مآب آغا مہدی شاہ رخی نے جہاں ہند ۔ ایران قدیم تعلقات پر روشنی ڈالی وہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے 46 برسوں کے دوران غیر معمولی ترقی کی ہے ۔ اور آج ساری دنیا زندگی کے مختلف شعبوں میں ایران کی ترقی پر حیران ہیں ۔ اسلامی انقلاب ایران کے بعد اپنے ملک کی ترقی کے بارے میں ان کا یہ کہنا تھا کہ آج ایران ، شعبہ طب ، شعبہ تعلیم ، سائنس و ٹکنالوجی ، ہیومن رائٹس ، سیکوریٹی و ڈیفنس جیسے اہم ترین شعبوں میں زبردست ترقی کی ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی ، نینو ٹکنالوجی اور بائیو ٹکنالوجی میں اس کا شمار سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے ۔ عزت مآب شاہ رخی نے مزید کہا کہ ایران نے تعلیمی شعبہ میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے ۔ ایرانی جامعات میں 3.2 ملین طلبہ ہیں جن میں 50 فیصد خواتین ہیں ۔ ایرانی قیادت نے خواتین کو زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھایا اور وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعہ اپنی موجودگی کا احساس دلارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سال 60 ہزار سے زائد ریسرچ پیپرس شائع ہوتے ہیں ۔ تقریب کا آغاز ہندوستان اور ایران کے قومی ترانوں سے ہوا۔ تقریب جشن یوم آزادی کو اپنی موجودگی سے چار چاند لگانے والی اہم شخصیتوں میں ترکی کے نائب قونصل عزت مآب مصطفی کایا ، مسٹر جیش رنجن آئی اے ایس اسپیشل چیف سکریٹری آئی ٹی ای اینڈ سی و انڈسٹریل و کامرس ڈپارٹمنٹ حکومت تلنگانہ ، ریاض آفندی ایم ایل سی ، نواب رونق یار خاں ، نواب نجف علی خاں ، وائس چانسلر مانو پروفیسر عین الحسن وائس چانسلر ایفلو محترمہ لکشمی ، مسٹر سورت ملہوترا اعزازی قونصل جنرل بلغاریہ ، جناب ناصر علی خاں اعزازی قونصل جنرل قازقستان ، ڈاکٹر شوکت علی مرزا ، آغا مجاہد حسین ، سید باقر حسین ، حضرت محمود پاشاہ قادری زرین کلا ، محمد فصیح الدین نظامی ، شبیر نقشبندی ، مولانا سید ذکی حسینی اویس گلبرگہ ، قاری محمد علی خاں ، قاری متین علی شاہ قادری ، قاری محمد محبوب ، مولانا قاری عبدالعلیم صدیقی امام مکہ مسجد ، حافظ صابر پاشاہ ، امجد خاں مہدی موومنٹ ، مولانا تقی رضا عابدی ، مولانا علی حیدر فرشتہ ، مولانا لقمان موسوی ، مولانا رضا عباس خاں ، جناب جعفر حسین و دیگر شامل ہیں ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ایم ایل سی نے اپنے خطاب میں ہند ۔ ایران قدیم تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ہماری ریاست اور خاص طور پر حیدرآباد میں ایرانی فن تعمیر کی جھلک نمایاں ہیں ۔ انہوں نے اس ضمن میں ایشیاء کے پہلے ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل ، دارالشفاء کا ذکر کیا ۔ پی آر او ایرانی قونصل جنرل محترمہ فاطمہ نقوی نے بڑی خوبصورتی سے کارروائی چلائی ۔ اس تقریب کو کیک کاٹ کر یادگار بنایا گیا ۔۔
