شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار اور مچھروں کی بہتات

تلنگانہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی شہر حیدرآباد کو مستقبل میں سیلاب سے پاک شہر بنانے کے ساتھ ساتھ آب کے مسائل کو حل کرنے پر زور دیا لیکن حیدرآباد میں گزشتہ چند مہینوں میں شہر کے حالات بگڑ گئے ہیں جہاں عوام اپنے گھر کے کچرے کو سڑکوں پر ہی پھینک رہے ہیں۔ متعدد شکایتیں وصول ہونے کے بعد جی ایچ ایم سی عملہ صفائی کے کام کو انجام دینے کیلئے مکمل کوشش کررہے ہیں۔ کچرے کے انبار کی وجہ سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہے۔ جگہ جگہ سڑکوں پر کچرے کے انبار پر حیدرآبادیوں کا ہجوم سڑکوں پر بہتا گٹر کا پانی اور مچھروں کی تعداد میں اضافہ حال ہی میں بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر عوام حیدرآباد میں نالوں کی ناقابل رحم حالت کے بارے میں پوسٹ کیا۔ حیدرآباد کی تقریباً گلیوں میں گٹر کا پانی بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے مچھروں کی بھرمار ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہیکہ مچھر صحت کیلئے خطرناک ہیں جس سے ہمیں کب چھٹکارا ملے گا۔ اس پوسٹ کا جواب کئی لوگوں نے دیا اور سڑکوں پر کچرے اور گٹر کے پانی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں پر بھی بحث کی گئی۔ ایک شخص نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ وہ حیدرآباد منتقل ہوا تب ہی اسے پتہ چلا کہ یہاں مچھروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ مچھرکش دوا یا آل آؤٹ یا پھر مچھر مارنے والے بیاٹ کا استعمال بھی ناکافی ہورہا ہے۔ آخر کار اس نے مچھردانی ہی واحد حل تھا جسے اس نے استعمال کیا۔ ایک صارف نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ پچھلے تین ماہ میں مچھروں کا خطرہ اچانک بڑھ گیا ہے۔
