کٹھوعہ مسلح تصادم میں ایک اور پولیس اہلکار کی لاش برآمد

n65792691517431520950117641692b974388102bbabc4a86a7dfa13a29c1988f511ffd3ed820aef344fad6

جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں جمعرات کو ہونے والے مسلح تصادم کے مقام کے قریب جمعہ کو ڈرون کے ذریعے ایک اور پولیس اہلکار کی لاش دیکھی گئی، جس کے بعد جاں بحق پولیس اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی۔ اس تصادم میں اب تک تین دہشت گرد بھی مارے جا چکے ہیں۔سیکورٹی فورسز نے آج صبح مختلف سمتوں سے علاقے میں پیش قدمی شروع کی تاکہ صفائی کارروائی کو مکمل کیا جا سکے۔ جمعرات کو دن بھر جاری رہنے والے تصادم میں تین مشتبہ پاکستانی دہشت گرد اور تین پولیس اہلکار مارے گئے تھے، جبکہ ایک پولیس اہلکار لاپتہ تھا۔ اس جھڑپ میں سات اہلکار زخمی ہوئے، جن میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق، علاقے میں دو مزید دہشت گردوں کے موجود ہونے کا خدشہ ہے، جن کی لاشیں اب تک نہیں مل سکیں۔ آپریشن جکھولے گاؤں کے قریب گھاٹی جتھانہ علاقے میں جاری ہے، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے کارروائی کی۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ وہی گروہ ہے جو پہلے سنیال جنگلات میں محاصرے سے بچ نکلا تھا یا کوئی نیا گروہ تھا۔ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم، بلیٹ جیکٹ، سلیپنگ بیگز اور بارودی مواد برآمد کیا ہے۔پولیس کا ماننا ہے کہ دہشت گردوں نے ہفتے کے روز بین الاقوامی سرحد سے دراندازی کی تھی۔ ڈی جی پی نلین پربھات اور آئی جی پی بھیم سین توتی گزشتہ چار روز سے کٹھوعہ میں اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ادھر، پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔فوج نے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔