کیا جگنو بھی بربابوٹی کی طرح غائب ہوجائیں گے؟

ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار توسیع کے نتیجہ میں کئی نادر اور نایاب حشرات الارض کا وجود خطرہ میں پڑچکا ہے ۔ ایک دور وہ بھی تھا جب بارش کے ساتھ ہی نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہری علاقوں کی زمین سے ایک نادر خدا کی مخلوق دکھائی دیتی تھی جسے عام فہم زبان میں بربابوٹی کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بربابوٹی کا وجود آبادیوں سے ختم ہوچکا ہے اور صرف جنگلاتی علاقوں میں ہی اسے دیکھا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رات کے وقت اپنی خوشنما روشنی کے ذریعہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بننے والا جگنو بھی تیزی کے ساتھ ختم ہورہے ہیں ۔ جگنو کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1980 کے دہے میں فلم جگنو ریلیز ہوئی تھی۔ وائلڈ لائیف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے اشتراک سے دو نامور سائنسدانوں نے حال ہی میں جگنو کے وجود پر ریسرچ کیا جس میں پایا گیا کہ ملک میں صرف ایک سال کی مدت میں جگنو کی آبادی میں 76 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر ویریندر پرساد اور ڈاکٹر نیدھی رانا نے یہ سروے کیا اور ان کا تعلق گرافک ایرا یونیورسٹی دہرادون سے ہے۔ 22 ریاستوں میں یہ سروے کیا گیا جس میں پتہ چلا کہ جگنو کی تعداد محض 6139 رہ چکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جگنو کی تعداد میں کمی کیلئے آبادیوں میں تیزی سے اضافہ اور لائیٹ پولیوشن یعنی برقی کی چمک دمک کے ساتھ پیدا ہونے والی آلودگی ہے۔ شہری علاقوں میں روشنی کیلئے بڑھتی چمک دمک کے آلات استعمال سے جگنو کے وجود کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ 22 ریاستوں میں 232 ریسرچرس نے سروے میں حصہ لیا۔ اتراکھنڈ ، کیرالا ، راجستھان ، اترپردیش ، کرناٹک ، گجرات ، پنجاب ، جھارکھنڈ ، بہار اور ہماچل پردیش میں یہ سروے کیا گیا۔ تازہ ترین سروے میں ڈاکٹر ویریندر پرساد کے مطابق صرف 6139 جگنو ریکارڈ کئے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلہ کافی کم ہے۔ 20 ریاستوں میں گزشتہ سال 26,000 جگنوؤں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مصنوعی روشنی کے بڑھتے آلات میں قدرتی روشنی والے جگنوؤں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 76 فیصد کی کمی اس مخلوق کے وجود کے بارے میں خطرہ کی گھنٹی ہے اور انسانیت کو جگنو کے تحفظ پر غور کرنا ہوگا۔ سماج میں کیمیکلس، فرٹیلائیزرس اور پریسٹیسائیڈس کے استعمال میں اضافہ کے رجحان نے آلودگی میں اضافہ کیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف ماحولیاتی بلکہ آبی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ زرعی اغراض کے لئے کیمیاوی اشیاء کے استعمال نے جگنو جیسی نادر قدرتی مخلوق کے وجود کو خطرہ پیدا کردیا ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب شام ہوتے ہی جگنوؤں کے نمودار ہونے سے بچوں میں خوشی کا ماحول پیدا ہوجاتا اور جگنوؤں پر کہانیوں کے ذریعہ بزرگ بچوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے.
