الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں ، اب عوام ہی سبق سکھائیں گے :کانگریس

congress

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاستی الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کے باوجود الیکشن کا اعلان کرنا جمہوری ذمہ داری سے منہ موڑنے کے مترادف ہے ۔ کمیشن نے یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا ہے کہ وہ جعلی ووٹروں کے ناموں کے سامنے ایک ‘اسٹار’ کا نشان لگا دے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان ناموں کو فہرست سے حذف کرکے ووٹر لسٹ کو صاف اور شفاف کیوں نہیں بنایا جاتا؟ اس کا جواب الیکشن کمیشن دینے سے قاصر ہے ۔ کمیشن کا طرزِ عمل بتا رہا ہے کہ وہ حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ تلک بھون میں آج ریاستی کانگریس کی صدارت میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، ۔ اس میٹنگ میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بلدیاتی اداروں کے مجوزہ انتخابات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ریاستی کانگریس کی انتخابی کمیٹی 12 اور 13 نومبر کو اجلاس منعقد کرے گی جس میں امیدواروں کے نام طے کیے جائیں گے۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ووٹ چوری کے ذریعہ بنی ہے اور کانگریس مسلسل اس غیر قانونی عمل کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن سے آل پارٹی وفد نے ملاقات کرکے ووٹر لسٹ درست کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کمیشن نے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں صاف و شفاف انتخابات کرانا کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے ، لیکن وہ اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اب عوام ہی ان لوگوں کو سبق سکھائیں گے۔ اس موقع پر کسانوں کے مقروض ہونے کی اذیت کو اجاگر کرنے والا ایک نغمہ بھی جاری کیا گیا۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو قرض معافی دے کر ان کا بوجھ کم کرے ۔ کسانوں کو خودکشی کے بحران سے نکالنے کیلئے قرض معافی کیساتھ عملی امداد فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ یہ نغمہ دراصل اسی پیغام کو اجاگر کرتا ہے کہ حکومت کسانوں کی فلاح کے لیے فوری اور مؤثر قدم اٹھائے ۔