ضمنی انتخاب میں شکست کے باوجود مایوسی نہیں : کے ٹی آر

14last_2

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے جوبلی ہلز کے نتائج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کی ہمیں امید تھی لیکن شکست پر مایوسی بھی نہیں ہے ۔ پارٹی میں شکست کا جائزہ لیا جائے گا اور مزید جوش و خروش کے ساتھ حکومت کی ناکامیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے عوامی مسائل کی یکسوئی کے لیے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کیا جائے گا ۔ تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ گذشتہ 2 سال سے بی آر ایس پارٹی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتی آرہی ہے ۔ لگچرلہ ، حیڈرا اور موسیٰ ندی کے متاثرین ، 6 ضمانتوں کے مسئلہ پر مسلسل آواز اٹھاتے آرہی ہے اور بی آر ایس پر کئے گئے تنقیدوں اور الزامات کا بھی مناسب انداز میں جواب دیا گیا ہے ۔ مستقبل میں بھی بی آر ایس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جوبلی ہلز میں بی آر ایس کامیاب نہیں ہوئی مگر بی آر ایس کے کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش بڑھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں سب پارٹیوں کو نہیں عوام کو جیتنا ہے ۔ یقینا ضمنی انتخاب میں کانگریس کامیاب ہوئی مگر بی آر ایس پارٹی نے عوام کے دلوں کو جیتا ہے ۔ یہ الیکشن کیسے منعقد ہوا ہے اس پر عوام میں مباحث ہونی چاہئے ۔ ہم نے ایک ماہ قبل ہی کہہ دیا تھا کہ کانگریس پارٹی انتخابی بے ضابطگیاں کرنے والی ہے۔ کانگریس امیدوار کے بھائی کے تین ووٹ ہونے کا ثبوت عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن سے اس کو رجوع کیا گیا اور عدالت کے بھی علم میں لایا گیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں ۔ انہوں نے پارٹی امیدوار سنیتا کی کامیابی کے لیے کام کرنے والوں سے اظہار تشکر کیا بالخصوص سوشیل میڈیا میں کام کرنے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے پارٹی کیڈر کو نتائج سے مایوس ہوئے بغیر عوامی مسائل کی یکسوئی کے لیے مزید جوش و جذبہ کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی کو جتنا دیا جائے گا پارٹی اتنی ہی تیزی سے ابھرے گی ۔