ٹام کام کے ذریعہ بیرونی ممالک میں روزگار کی فراہمی کے اقدامات کی ہدایت

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بیرونی ممالک میں تلنگانہ کے امیدواروں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق ادارہ تلنگانہ اوورسیز میان پاور کمپنی (TOMCOM) کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کو پاسپورٹ کی فراہمی سے لے کر روزگار کی فراہمی تک یہ ادارہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ بیرونی ملک ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کرنے کے علاوہ جاب میلوں کے انعقاد ، پاسپورٹ کے حصول اور متعلقہ ممالک میں روزگار فراہم کرنے کی مکمل ذمہ داری قبول کریں۔ چیف منسٹر نے محکمہ شکتی کے جائزہ اجلاس میں وزیر لیبر ویویک وینکٹ سوامی کے ہمراہ ٹام کام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور وسعت دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی تلنگانہ سے بڑی تعداد میں مزدور مشرقی وسطی کے ممالک میں روزگار کیلئے جارہے ہیں لیکن کئی افراد ایجنٹس کی دھوکہ دہی کا شکار ہیں ۔ انہوں نے ٹام کام کو ہدایت دی کہ مختلف ممالک کی میان پاور کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرے تاکہ ملازمین کو تحفظ حاصل ہو اور کسی بھی دشواری کی صورت میں مدد کی جاسکے۔ چیف منسٹر نے بیرون ملک لیبر بھیجنے والے ایجنٹوں کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور ہر امیدوار کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ تقررات کے سسٹم کی نگرانی کیلئے ایک سابق آئی ایف ایس عہدیدار کو ٹام کام کا چیف اگزیکیٹیو آفیسر مقرر کیا جائے گا۔ ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو لائیٹ اور ہیوی موٹر وہیکل ڈرائیونگ کی ٹریننگ کا چیف منسٹر نے مشورہ دیا۔ انہوں نے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی میں جدید تحقیق کیلئے ریسرچ سنٹر قائم کرنے اور جرمنی ، جاپان ، کوریا ، چین اور روس سمیت مختلف غیر ملکی زبانوں کی تعلیم کیلئے خصوصی شعبہ قائم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان زبانوں کی تدریس کیلئے مقامی ماہرین کے علاوہ متعلقہ ممالک کے ٹیچرس کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے حکام کو بلیو کالر ملازمتوں کی ٹریننگ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو اسکالرشپ کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ جس طرح طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کیلئے اوورسیز اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے ، اسی طرح ٹام کام کے ذریعہ ملازمتوںکے خواہشمندوں کو اسکالرشپ کی تجویز ہے۔ چیف منسٹر نے سرکاری انجنیئرنگ کالجس ، آئی ٹی آئیز ، اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس اور پالی ٹیکنیکل اداروں کے طلبہ کو بڑی کمپنیوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرن شپ سے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ عملی تجربہ اور اسٹائفنڈ حاصل ہوگا۔ چیف منسٹر نے اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس میں الیکٹریکل وہیکل سرویسنگ اور ڈرون ٹکنالوجی سے متعلق جدید کورسس شروع کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ان شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ملک اور بیرونی ملک نرسس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں معمر افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور ہر گھر میں نرسوں کی ضرورتوں محسوس کی جارہی ہے ۔ اس ضرورت کی تکمیل کیلئے ریاست میں مزید نرسنگ کالجس کے قیام کی منظوری دی جائے گی۔ جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری این سریدھر ، محکمہ شکتی کے سکریٹری ہری چندنا ، ڈائرکٹر ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ کانتی ویسلی ، ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سبا راؤ اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔
