پیلیٹ گنس پر امتناع عائد نہیں کیا جاسکتا جب تک موجودہ ایڈوائزری ان کے استعمال کی اجازت دیتی ہے : سپریم کورٹ

suprem-court

سپریم کورٹ نے کل کہا کہ جب تک موجودہ سرکاری ہدایات کے تحت ہجوم پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی حالات میں پیلیٹ گنس کے استعمال کی اجازت موجود ہے ۔ ان پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ہتھیاروں کے مبینہ غلط استعمال کے ہر معاملہ کا الگ الگ جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیا باگچی اور وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ ریمارکس اس درخواست کی سماعت کے دوران کیے جس میں نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ کے افشاء کے خلاف طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران ریاپڈ ایکشن فورس کی جانب سے دھاتی پیلیٹ گنس کے استعمال پراعتراض کیا گیا تھا ۔ درخواست گذارنے مرکز کو ہدایت دینے کی بھی استدعا کی کہ جنترمنتر پر تعینات فورس کے اسلحہ اور گولہ بارود کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے ۔ عدالت نے بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق غیر معمولی حالات میں پیلیٹ گنس کے استعمال کا اختیار ہوتا ہے ۔ اس لیے مکمل پابندی کی درخواست قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گذار کی مکمل پابندی کی استدعا مبہم معلوم ہوتی ہے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر درخواست گذار پیلیٹ گنس کے استعمال کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ان قواعد و ضوابط کو چیالنج کرنا ہوگا جو اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں ۔